اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے نائب وزیر خارجہ نے جمعرات [24 جنوری سنہ 2019ع] کو نشر ہونے والے اپنے مکالمے میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف عسکری اقدام والے نعرے سنجیدہ اور قابل توجہ نہیں ہیں.
انھوں نے کہا کہ امریکی قیادت میں قائم ایران مخالف محاذ کا مقصد صرف یہ ہے کہ مغربی ایشیا میں ایران کے موقف کو کمزور کردے۔
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف (Sergey Ryabkov) نے جریدہ انٹرنیشنل افئیرز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مختلف موزوعات کے بارے میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ ایران کے خلاف عسکری اقدام کے سلسلے میں کوئی بھی منصوبہ قابل توجہ اور سنجیدہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: حال ہی میں روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل میں چھپنے والی رپورٹ کے سلسلے میں ـ جس میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے چند ماہ قبل پینٹاگون سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف فوجی اقدام کے امکانات کا جائزہ لے کر ایک منصوبہ تدوین کرے ـ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ امریکیوں کے ہاں ان تمام ممالک کے خلاف اس طرح کی منصوبہ بندیاں ہوتی رہتی ہیں جو جو امریکی اتحادیوں کے زمرے میں شامل نہیں ہیں۔ سوال یہ پیش آتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ بندیاں قابل عمل بھی ہیں یا نہیں؟ ان منصوبوں کی تفصیلات کہاں تک واضح ہوئی ہیں؟ کیا یہ منصوبے عام سے منصوبے ہیں یا ضروری وسائل، خاص نظام الاوقات۔ وغیرہ کا تعین ہوچکا ہے یا نہیں؟ ۔۔۔ یہ ساری باتیں میرے شعبے سے تعلق نہیں رکھتیں اور ایسے افراد موجود ہیں جو پیشہ ورانہ انداز سے ان مسائل کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔۔۔ لیکن امریکی سیاسی روایت اور ان کی ثقافت یہ ہے کہ کسی ملک کے خلاف ممکنہ تمام اقدامات کو صدر کے سامنے رکھا جاتا ہے جو کہ امریکی افواج کا کمانڈر بھی ہے چاہے یہ اقدامات کسی ملک کے خلاف فوجی اقدام کے سلسلے میں ہوں، چاہے پابندی لگانے کے سلسلے میں ہوں، چاہے دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں ہوں؛ اور صدر قومی سلامتی کونسل کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے اس سلسلے میں فیصلہ کرتا ہے۔
ایران دشمن محاذ کا مقصد کیا ہے؟
ریابکوف نے کہا: یہ مسئلہ ہرگز ایک سنجیدہ اور حساس مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سنہ 2012ع اور سنہ 2013ع میں ایران پر امریکی فوجی اقدام کے امکان کے بارے میں مسلسل بحث رہتی تھی، تقریبا ہر ہفتے، اور ہر مہینے اس سلسلے میں بات ہوتی تھی، البتہ میں یہ نہیں جانتا کہ وہ منصوبے قابل عمل بھی تھے یا پھر وہ ساری باتیں واشنگٹن کی نفسیاتی اور معلوماتی جنگ کا حصہ تھیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ واشنگٹن کے سلسلے میں آپ کو ہر صورت حال کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے، اور جان لینا چاہئے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر امریکیوں کو کسی بہانے کی ضرورت ہو تو وہ اس تلاش کرہی لیتے ہیں اور اگر ضرورت نہ ہو تو وہ کوئی بہانہ تلاش نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں پہلے سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ فی الحال ـ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مغربی ایشیا میں ایرانی موقف کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں اب وہ کانفرنسوں اور ملاقاتوں کا سہارا لے رہے ہیں!
ایران کے ساتھ تجارتی رابطہ برقرار رکھنے کی کوششیں
ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ تجارتی رابطہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کوئی ذریعہ بنا سکتے ہیں جس سے وہ ایران کو مطمئن کرسکیں یا نہیں؟ ہم بھی اور ہمارے چینی شرکاء بھی اس عمل میں وسیع سطح پر شریک ہیں۔ اور ہمیں حالات کی پیچیدگی کے باوجود عقلیت کی حکمرانی کی امید ہے۔
انھوں نے کہا: ایران نے برسہا برس پابندیوں میں گذار دیئے ہیں، اور آج بھی اسے پابندیوں کا سامنا ہے۔ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے تقریبا 70 ملکوں پر مختلف سطوح میں، پابندیاں لگائی ہیں۔
انھوں نے کہا: واشنگٹن میں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پابندیوں پر ان کا کوئی خاصا خرچہ نہیں آتا اور امریکہ کی معاشی قوت کے زور سے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ لیکن واشنگٹن نے اس حقیقت کو نظرانداز کرلیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو دنیا بھر کے ممالک کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
............
110
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۱