29 دسمبر 2018 - 15:17
امریکی سپنا یا بالادستی کا سنگ بنیاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار

رفتہ رفتہ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ، امریکی فوجی بغاوتوں اور مختلف قسم کی مداخلتوں سے واضح ہوا کہ جس چیز کو امریکی سپنے [American Dream] کے طور پر پہچانا جاتا تھا وہ دوسری قوموں کے لئے درندگی اور مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آج سے صرف 10 سال قبل تک امریکی زوال کے بارے میں کچھ بولنا لکھنا شاید کافی مشکل تھا لیکن آج قریب الوقوع واقعے کو پوری دنیا میں ایک مسلمہ حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بھی اس نکتے کو فراموش نہیں کرسکتا کہ 2008ع‍کے مالی بحران اور مغرب میں وسیع پیمانے پر مالیاتی زوال  کے بعد وہ مفہوم کلی طور پر نابود ہوگیا جس کو جس کو امریکن ڈریم کا نام دیا جاتا رہا تھا۔
امریکن ڈریم کا مزید کوئی وجود نہیں تھا اور 99٪ عوام کے احتجاجات نے بھی واضح کردیا کہ امریکہ کو عظیم بحران کا سامنا ہے اور اس بحران کا سبب اس ملک کی طاقت کا زوال تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کا [کم از کم ایک] سبب یہ تھا کہ امریکیوں کے مابین امریکن ڈریم پھیکا پڑ گیا ہے۔
اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو اپنی سرحدوں میں [واپس] لانا چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ امریکی طاقت زوال کی طرف کیوں جارہی ہے؟ اور امریکہ کو محدود کرنے کے لئے ہونے والے یہ اقدامات کس حد تک امریکہ کی نام نہاد بالادستی (Hegemony) کو کم کرسکیں گے؟
*مثالیت پسندی اور مادہ پرستی کی کشش
امریکہ بہر صورت، اپنی تاریخ اور بین الاقوامی سطح پر اپنے رویوں کی بنا پر، عالمی توجہات کا مرکز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو امریکی بالادستی کا نام دیا ہے جاتا ہے بعینہ وہی چیز ہے جس کو امریکن ڈریم کہا جاتا ہے۔ امریکن ڈریم وہ سب کچھ ہے جس کے اوپر ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج تک قائم رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آج امریکن ڈریم کے نام کا کوئی مفہوم نہ ہوتا تو شاید امریکی طاقت نامی چیز بھی نہ ہوتی۔
اب اس فرض [اور تصور] کے ساتھ کہ، بین الاقوامی معاملات میں تعمیری اثر و رسوخ کی امریکی اہلیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا والے امریکہ کے سماجی نظام اور بین الاقوامی کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؛ تو ہم نتیجہ لیں گے کہ اگر امریکہ کے اندر کے منفی حقائق اور اس کے بیرونی سیاسی اقدامات ـ جو کہ بین الاقوامی نفرت کا باعث ہوئے ہیں ـ امریکہ کے تاریخی کردار کو ناپسندیدہ بنا دیں تو امریکہ کی عالمی وضع (position) لامحالہ، زوال پذیر ہوگی۔ چنانچہ امریکہ کو اپنی تمام تر منفرد اور موروثی طاقت کو بروئے کار لاکر اپنے حیرت انگیز اندرونی مسائل پر غلبہ پانا ہوگا اور اپنی بےلگام خارجہ پالیسی کو تبدیل کرے تا کہ اپنی ہمہ جہت اور منظم برتری کا تحفظ کرسکے۔
کئی عشروں کے دوران "امریکن ڈریم"  نے کروڑوں انسانوں کو اپنی زلفوں کا شیفتہ بنا کر اپنی امریکی ساحلوں تک کھینچ لیا ہے۔
*امریکن ڈریم اور جاذبیت
بہت سے بیرونی سائنسدان، اطبّاء اور سرمایہ کار آج بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں ان کے لئے کام کاج کے مواقع موجود ہیں اور زیادہ تسلی بخش سماجی صورت حال نیز سستی زندگی ان کا انتظار کررہی ہے! جبکہ ان کے اپنے ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ نوجوان نسل کے لوگ امریکہ میں اعلی جامعاتی تعلیم کے حصول کے لئے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ سے ایک اعلی تعلیم سند انہیں اپنے ملک میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی زیادہ بہتر پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرسکتی ہے۔ ہر سال تقریبا 10 لاکھ بیرونی طلبہ حصول تعلیم کے لئے امریکہ پہنچتے ہیں اور امریکہ کے اندر کے صورت حال کے شیدائی بن کر وہیں رہ جاتے ہیں۔ [اور یوں جن ملکوں سے وہ آئے ہیں وہ ان افراد کی اہلیتوں اور صلاحیتوں سے کلی طور پر محروم ہوجاتے ہیں]۔
اسی طرح مرکزی امریکہ کے غریب عوام، جو اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر امریکہ کی غیر فنی اور غیر تخصصی منڈی میں کام تلاش کرنے کے لئے آتے ہیں، در حقیقت ایسا ذاتی انتخاب کرچکے ہیں جو انہیں ان لوگوں سے ممتاز کردیتا ہے جو اس طرح کے پر خطر سفر کی جرات نہیں رکھتے۔ ایسے افراد کے لئے امریکہ آج بھی پہلے سے بہتر زندگی کی خاطر، جاذب ترین اور قریب ترین منزل ہے۔  ان افراد کے ذاتی سپنوں کا اصل فائدہ آخرکار امریکہ کو پہنچتا ہے۔
امریکہ کی جاذبیت اور کشش کی کنجی مثالیت پسندی (idealism) اور مادہ پرستی (materialism) کے دو عناصر کے ملاپ سے معرض وجود میں آئی ہے اور یہ دونوں عناصر انسانوں کی روحوں کو اکسانے اور متحرک کرنے کے لئے ہیں۔
امریکہ کی شخصیت ابتداء ہی سے مثالیت پسندی اور مادہ پرستی کے دو عناصر، کے آئینے میں دیکھی اور دکھائی گئی ہے۔ اسی بنا پر بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے اطراف کے لوگ ـ جو اپنے ملکوں کو لئے وہی کچھ چاہتے تھے جو امریکی انقلاب نے بظاہر اپنے عوام کے لئے چھوڑ رکھا تھا ـ امریکہ کی طرف کھنچ گئے۔ امریکہ جانے والے مہاجرین ایسے خطوط اپنے عزیزوں کے لئے لکھتے تھے جن میں امریکہ کی مالیاتی صورت حال اور ان افراد کی سماجی شخصیت کے سلسلے میں ـ مبالغہ آمیزی پر استوار ـ دلفریب تصویر دکھائی جاتی تھی۔ چنانچہ بہت سوں کو یہ المناک حقیقت تلاش کرنے کے لئے خود امریکہ جانا پڑا کہ "امریکہ کی سڑکوں پر سونے کے قالین نہیں بچھے ہیں"۔
*امریکہ اور دنیا کی فتح کے لئے پہلا قدم
اس کے باوجود کہ امریکن ڈریم کو مقبولیت ملی اور یہ مقبولیت بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہی، کچھ ایسی حکومتیں اور قومیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے امریکہ کی اصل حقیقت کا ادراک کرلیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم دنیا میں امریکی سپنے کے مخدوش ہونے کے سلسلے میں بحث کرنا چاہیں تو ہمیں برسوں پیچھے پلٹنا پڑے گا جس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنے پڑوسی ملک میکسیکو کو شدید ترین فوجی دباؤ سے دوچار کیا اور اس ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا جس کو آج "کیلیفورنیا" کا نام دیا جاتا ہے۔
میکسیکو کے عوام اور حکومت کے لئے نوبنیاد امریکہ اس امریکہ سے کہیں زیادہ مختلف تھا جو بحر اوقیانوس کے اُس پار کے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرا ہوا تھا۔ میکسیکن عوام کی نظر میں امریکہ کی اصل تصویر سامنے آچکی تھی: ایک توسیع پسند ملک، دوسروں کی سرزمینوں پر قبضے کی لالچ رکھنے والی طاقت، بغیر جڑوں کے قائم بے رحم قوت جو اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے، بین الاقوامی جاہ طلبیوں کی راہ میں سامراج، (Imperialist) اور جمہوری ظاہرداریوں اور ریاکاریوں میں بہت زیادہ حیلہ باز اور مکار۔
یہ درست ہے کہ میکسیکو کی تاریخ بجائے خود غلطیوں اور خطاؤں سے بری الذمہ نہیں ہے؛ لیکن اس کی بہت سی شکایتیں اور اعتراضات کی جڑیں تاریخی حقائق میں پیوست ہیں۔ امریکہ نے سامراجیت اور نہ بجھنے والی لالچ کی بنیاد پر میکسیکو کو ارضی طور پر نقصان پہنچایا اور اپنی سرزمین کو وسعت دی، حالانکہ یہ رویہ امریکہ کی نوجوان ظاہری جمہوریت کی بین الاقوامی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔  
بہت جلد، میکسیکو کی سرزمینوں کے بعد، بحرالکاہل کے وسط میں واقع سلطنت ہوائی (Kingdom of Hawaii) امریکی پرچم گاڑھنے کی باری آئی۔ چند عشرے بعد امریکی ساحلوں سے بہت دور ـ جنوب مشرقی وسطی ایشیا میں واقع ـ فلپائن کی باری آئی گوکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کو فلپائن سے نکلنا پڑا۔ کیوبا سمیت مرکزی امریکہ کے کچھ دوسرے ممالک کو بھی امریکی سامراجیت کی جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ جارحیتیں میکسیکو پر قبضے کے تجربے کا تسلسل سمجھی جاتی تھیں۔
امریکہ یہ سب دنیا کے ساتھ تجارت کے لئے قریبی تعلق قائم کرنے کے لئے کررہا تھا جس کے لئے جَزائر غَربُ الہِند (West Indies) يا کَريبين سَمَندَر (Caribbean sea) امریکی عملداری ضروری سمجھا گیا تھا چنانچہ امریکیوں نے اس راہ میں کسی بھی غیر انسانی جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کیا؛ ان اقدامات کا طویل المدت نتیجہ لاطینی امریکہ کے عوام کے لئے حد سے زیادہ ـ اور آج تک جاری ـ غربت اور قحط اور بھوک کی صورت میں برآمد ہوا۔ بطور مثال ہیٹی (Haiti) جیسا ملک ـ جو کبھی بہت زرخیز تھا ـ امریکیوں کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوا اور پوری بیسویں صدی میں ایک غریب اور آفت زدہ ملک کے طور پر پہچانا گیا۔ ملک پاناما (Panama) جو بحری جہازوں کی رفت و آمد کے لئے بحر اوقیانوس کو بحرالکاہل سے ملانے والی تزویری نہر پاناما (Panama Canal) کا میزبان ہے، محض امریکہ کے معاشی مفادات کی خاطر برسوں تک امریکہ کے زیر تسلط رہا۔
*امریکن ڈریم کا شکار بننے والے پہلے متأثرین
انیسویں صدی کے دوران اور بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ کے سلسلے میں جنوبی امریکی عوام کی رائے مکمل طور منفی رہی۔ گوکہ ابتداء میں ـ اس لئے کہ امریکہ نے یورپ کا تسلط مسترد کردیا تھا ـ جنوبی امریکہ کا کچھ حصہ امریکہ کی طرف مائل تھا اور ان میں سے کچھ نے تو امریکی آئین کی جدت پسندانہ دفعات تک کی تقلید کرلی؛ تاہم مونرو ڈاکٹرائن (1) ـ جس نے نصف کرۂ مغربی (براعظم امریکہ) میں یورپیوں کی مداخلت کو ممنوع قرار دیا تھا، ـ جنوبی امریکہ کے بعض ممالک کی نظر میں کچھ مشکوک سا تھا اور وہ اس کو تذبذب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ مونرو ڈاکٹرائن کا اصل مقصد ریاست ہائے متحدہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔ رفتہ رفتہ سیاسی اور ثقافتی و تہذیبی دشمنیاں واضح ہوئیں، بالخصوص درمیانی طبقے کے پڑھے لکھے دانشوروں کے درمیان، جو سیاسی لحاظ سے سرگرم عمل تھے۔ پیرون (2) کے ارجنٹائن اور وارگاس (3) کے برازیل نے بیسویں صدی کے دوران علاقے میں امریکی پالیسیوں اور تسلط کی خوب مزاحمت کی۔
اور رفتہ رفتہ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ، امریکی فوجی بغاوتوں اور مختلف قسم کی مداخلتوں سے واضح ہوا کہ جس چیز کو امریکی سپنے [American Dream] کے طور پر پہچانا جاتا تھا وہ دوسری قوموں کے لئے درندگی اور مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
روئیدادیں، فوجی بغاوتوں اور جارحیتوں کی صورت میں، ہر ایک کی داستان الگ الگ لائق اعتنا ہے؛ دنیا میں بہت سوں کو امریکی سپنے کی آشفتگی کا اندازہ بہت عرصے سے ہوچکا تھا لیکن اہم بات یہ ہے کہ آج امریکہ کے عوام کے لئے بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوچکی ہے اور امریکی سپنا یا امریکن ڈریم اندر ہی سے چور چور ہوچکا ہے اور شاید اکیسویں صدی کا آغاز درحقیقت ان تمام اسباب اور موجبات کے ظہور پذیر ہونےکا آغاز بھی تھا جنہوں نے امریکی سپنے کو کو مکمل طور پر نیست و نابود کردیا۔
*اگلی رپورٹ میں پڑھ لیجئے گا:
*امریکی سپنا ـ جو کہ اس ملک کے اندر، امریکی برتری کی اہم ترین علامت سمجھا جاتا تھا ـ عملی طور پر ـ کیونکر زوال کی ڈھلان پر پہنچ چکا ہے، اور رفتہ رفتہ مکمل مکمل اضمحلال اور نابودی کی راہ پر گامزن ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی پور صفا
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) جو کہ امریکہ کا سیاسی اصول یا ڈاکٹرائن تھا، اور امریکہ کی تاریخ کے بالکل آغاز میں سنہ 1823ع‍ماہ دسمبر میں امریکی صدر جیمز مونرو (James Monroe) نے اس کا اعلان کیا۔ اس اصول کے مطابق نوظہور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے معاملات میں یورپی طاقتوں کی مداخلت کی مخالفت کی گئی تھی؛ اس اصول کے مطابق ریاست ہائے متحدہ نے یورپی طاقتوں اور ان کی نوآبادیوں کے درمیان لڑی جانے والی کسی بھی جنگ میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا؛ اور قرار دیا کہ براعظم امریکہ میں نوآبادیاتی مقاصد کے لئے لڑی جانے والی کسی بھی جنگ کو معانداتی کاروائی (Hostile action) سمجھا جائے گا۔
2۔ ہوان دومینگو پیرون (Juan Domingo Perَn) ارجنٹینی جرنیل اور سیاستدان تھے جنہیں 1946 میں بطور صدر منتخب کیا گیا عوام کے ہردلعزیز تھے، دوسرے دور کے لئے بھی صدر منتخب ہوئے لیکن 1955ع‍میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوئے اور 1972ع‍میں ایک بار صدر منتخب ہوئے لیکن دو سال بعد 1974ع‍میں ان کا انتقال ہوا اور ان کی تیسری زوجہ بیگم ایزابیل پیرون ان کی جگہ اقتدار سنبھالا اور چھ مہینوں تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ ایزابل دنیا کی پہلی خاتون صدر سمجھی جاتی ہیں۔
3۔ جیتولیو دونالیس وارگاس (Getْlio Dornelles Vargas) نے سنہ 1930ع‍میں بغاوت کرکے برازیل کی صدارت سنبھالی اور جرمنی کے ساتھ تعلقات بحال رکھے اور امریکی تسلط کی مخالفت کی۔ 1945 میں مستعفی ہوئے۔ 1951ع‍میں دوبارہ منتخب ہوئے اور 1954ع‍میں فوج کے عدم تعاون کی وجہ سے ـ جس کا سبب بیرونی(!) تھا، خودکشی کرلی۔
۔۔۔۔۔۔
مضمون کا فارسی متن ملاحظہ کریں: http://fna.ir/bq6pqs

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰