اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ استنبول میں سعودی قونصل خانے کے باہر خاشقجی کے قتل کی مذمت میں نکالے گئے جلوس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مقتول صحافی کے قتل میں ملوث سبھی افراد کو سزا دی جائے - اس احتجاجی جلوس اور اجتماع میں جس میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مشیر یاسین آکتای بھی شریک تھے لوگوں نے کہا کہ جن لوگوں نے صحافی کو قتل کرنے کا حکم دیا انہیں بھی اور جنھوں نے قتل کیا ان سبھی کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے - مصر میں گذشتہ صدارتی انتخابات کے امیدوار ایمن نور نے خاشقجی سے اظہار ہمدردی کرنے والی ایسوسی ایشن کے ارکان کی نمائندگی میں ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خاشقجی کے قاتلوں کو خواہ وہ کسی بھی منصب اور عہدے پر ہی کیوں نہ ہوں سزا دی جائے - بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی سودے بازی یا ڈیل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ خاشقجی قتل کیس کے مجرموں کو عدالت کے کٹہر میں کھڑا نہ کیا جائے - ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مشیر یاسین آکتائی نے بھی کہا کہ اس گھناؤنے عمل کو انجام دینے والے اس بہیمانہ قتل کے بارے میں سوچ سوچ کر ہر لمحے خود اپنی ہی ملامت کررہے ہیں کہ انہوں نے کیوں ایسا گھناؤنا جرم کیا - ان کا کہنا تھا کہ خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار افراد اور عناصر ایک قلم کو خاموش کردینا چاہتے تھے لیکن اس قلم کی سرخ روشنائی نے ان کا گریبان پکڑ لیا - ترک صدر کے مشیر نے کہا کہ خاشقجی کے قاتل، خاشقجی کے جن خیالات اور افکار سے وحشت زدہ تھے اب وہی خیالات اور افکار بارش بن کر ان کے سروں پر گر رہے ہیں - ترکی میں صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم کے نمائندے ارول اوندر اوغلو نے بھی اس اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ادارے منمجلہ آزاد میڈیا کی حامی تنظیمیں ترک حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اس قتل کیس کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات انجام دے اور کیس کی تحقیقات میں کسی بھی طرح کی سفارتی او سیاسی بہانے بازی حائل نہ ہو - ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ذریعے پارلیمنٹ میں دئے گئے اس بیان کے دو روز بعد کہ جمال خاشقجی کو منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا گیا ہے سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ جو اطلاعات اور معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ مجرموں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت قتل کی یہ وارادت انجام دی ہے - سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود بن عبداللہ المعجب نے کہا کہ حقائق کے سامنے آنےتک اس کیس کی تحقیقات جاری رہیں گی - سعودی اٹارنی جنرل نے کہاکہ سعودی عرب اور ترکی کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے جو اطلاعات و معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنیاد پر ہی تحقیقات آگے بڑھیں گی - سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک سعودی عہدیدار نے رویٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قونصل خانے میں جب جمال خاشقجی جھگڑے کے دوران چلا رہے تھے تو ایک شخص نے ان کا منہ بند کرکے ان کا دم گھونٹ دیا تھا -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲