اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد کی سرزمین سے لکھنؤ تشریف لائے معروف مؤرخ،محقق اور ادیب علامہ اعجاز فرخ کے اعزاز میں ایک ’’ادبی مخاطبہ ‘‘ کا انعقاد یونائیٹیڈ اسپتال سبھاش مارگ کے آڈوٹوریم میں ہوا۔پروگرام کی ابتدا میں منتظمین ڈاکٹر عدنان عزیز، ڈاکٹر محمد مجیب ،ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر شمائلہ نے علامہ اعجاز فرخ کی خدمت میں گل پیش کی ۔گل پیشی کے بعد علامہ کی تازہ ترین کتاب ’’مرقع حیدرآباد‘‘ کی رسم جراعمل امیں آئی۔علامہ نے پروگرام کے درمیان اپنی کتاب کے مباحث اور حیدرآباد کی تہذیبی و ثقافتی ورثے کی ثروتمندی پرگفتگوکرتے ہوئے موجودہ زوال پزیر صورتحال پر ارباب سیاست کی بے حسی اور اپنوں کی بے اعتنائی پر تشویش کا اظہار کیا۔
پروگرام کے آغاز میں کنوینر شاہد کمال نے علامہ اعجاز فرخ کی تہذیبی و علمی شخصیت کااپنے مخصوص انداز میں تعارف کراتے ہوئے کہاکہ موجودہ عہد میں علامہ حیدرآباد کی تہذیب و ادب کا زندہ مرقع ہیں۔جس طرح لکھنؤ کی تہذیب کو سرشار ،عبدالحلیم شرر ،مرزا رسواؔاور مرزا جعفر حسین اور دہلی کو محمد حسین آزاد، سرسید اور خواجہ حسن نظامی نےعالمی منظرنامہ پر اپنی تحریروں کے ذریعہ سے شناخت روشن کی لیکن حیدرآباد کو اس طرح کا کوئی مؤرخ اور ادیب نصیب نہیں ہوسکا جو عالمی منظر نامہ پر وہاں کی بنتی بگڑتی تہذیب و ثقافت اور تاریخی عمارات و محلات کے بارے میں کوئی صحیح تاریخ سے واقف کرانے والا نہیں تھا ،علامہ نے اس بارگراں کو اپنے شانوں پر اٹھایا اور حیدرآباد علمی سطح پر صحیح تاریخ سے متعارف کرانے کا کام کیا۔اس سلسلے کی اہم کڑی ’’مرقع حیدرآباد ‘‘ ہے۔
اس ادبی مخاطبہ میں علامہ اعجاز فرخ سے لکھنؤ اور حیدرآباد کی تہذیبی و لسانی مماثلت اور بگڑتی تہذیبی و لسانی صورتحال پر مکالمہ ہوا۔ ظفرنقی اورعادل فراز نے اہم ادبی و لسانی مسائل پر علامہ اعجاز فرخ سے گفتگو کی جس میں لکھنؤ و حیدرآباد میں مرثیہ نگاری کی موجودہ صورتحال، اردو زبان کے رسم الخط کی اہمیت اور اسکا تہذیبی و ثقافتی پس منظر زیر بحث رہا ۔اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سوشل میڈیا پرفعال نام نہاد شعرا و ادباء کی منظم فوج کی لسانی و فنی ناواقفیت کے باوجود اپنی عظمت پر اصرار اور شہرت کی بے جاہوس کے ادبی و شعری نقصانات کو بھی نشان زد کیا۔دور تک بات کی ترسیل کے لئےنادانی میں اردو رسم الخط کو ترک کرکے دیوناگری اور رومن رسم الخط کو اختیاکرنا اردو دشمن عناصر کی منصوبہ بند سازشوں کو کامیاب کرناہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ اردو دوست افراد اردو رسم الخط کے تحفظ کے لئے سوشل میڈیاپر اپنی ادبی و شعری تخلیقات اور تحریروں کو اردو رسم الخط میں ہی پیش کریں۔پرویز ملک زادہ نے بھی اردو کی موجودہ صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے ہمیں اردو کےتحفظ کے لئے بیداری کا ثبوت پیش کرنا ہوگا اور کوشش کی جائے کہ ہر گھر میں اردو زبان کی تعلیم دی جائے ۔
اس ادبی مخاطبہ میں شعری نشست کا اہتمام بھی کیا گیاتھا ۔اس شعری نشست میں وکرم شریواستو، سلمان خیال ،اسریٰ رضوی،حنا رضوی،عائشہ ایوب ، ڈاکٹر احمد ایاز،دیدار اکبرپوری،قمر عباس قمر، واصف فاروقی، ظفر نقی اور پروگرام کے کنوینر شاہد کمال نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔نظامت کے فرائض عادل فراز نے بخوبی انجام دیے۔پروگرام کے اختتام پر یونائیٹیڈ اسپتال کے منتظمین ڈاکٹر عدنان عزیز،ڈاکٹر مجیب،ڈاکٹر فیصل ،ڈاکٹر شمائلہ اور کنونیر شاہد کمال نے حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔یہ پروگرام ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲