اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر سید پسند علی رضوی نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کی شہادت کے موقع پہ تعزیت و تسلت پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امیر الموٴمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرسبھی مفکرین اور دانشمند متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار،گفتار اور اذکار میں غور کیا، وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا۔ غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے جب امام المتقین علیہ السلام کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارِ علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ میں کمالِ طہارت، جادوبیانی، حرارتِ ایمانی، بلندیٴ روحِ انسانی، بلند ہمتی، نرم خوئی جیسی صفات موجود ہیں۔ ایک اور سکالر نے کہا کہ علی علیہ السلام روشن ضمیر، شہید ِمحراب اور عدالت ِ انسانی کے پکار تھے۔ وہ مولا علی کوستاروں سے بلند مقام پر سمجھتا ہے۔
ایک محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام وہ پہلی شخصیت ہیں جن کا پورے جہان سے روحانی تعلق ہے۔ وہ سب کے دوست ہیں اور اُن کی موت پیغمبروں کی موت ہے۔ دوسرا محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام روح و بیان میں ایک لامتناہی سمندر کی مانند ہیں اور ان کی یہ صفت ہر زمان اور ہر مکان میں ہے۔
تاریخ اور حقیقت ِ انسانی خود گواہی دے رہی ہے کہ علی علیہ السلام کا ضمیر زندہ و بیدار تھا۔ وہ شہید ِراہِ خدا تھے اور شہداء کے جد تھے، عدالت ِ انسانی کی فریاد تھے۔
امام علی علیہ السلام کی لامتناہی فکری سوچ کی وجہ سے وہ الفاظ کا سہارا نہیں لیتے بلکہ وہ الفاظ اور کلمات خود انسان کو مزید سوچ و بچار کی دعوت دیتے ہیں۔ تم اُن کی کسی عبارت کو نہیں پاؤ گے مگر جس سے تمہاری فکر سوچ کیلئے نئے اُفق پیدا نہ ہوجائیں۔
علی علیہ السلام اپنے سچے کردار اور سچائی کی وجہ سے دنیا میں پہچانے گئے اور حقیقت میں صدق و راستی اور سچائی ہی وہ واحد صفات ہیں جن سے کسی کے کردار کی شناخت کی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان دھوکہ نہیں کھاسکتا۔
علی ابن ابی طالب علیہ السلام منبر پر بڑے اطمینان اور اعتمادِ کامل کے ساتھ اپنے ارشاداتِ عادلانہ کا پرچار کرتے اور تقریر کرتے۔ وہ بہت سمجھ دار اور جلد نتیجہ پر پہنچنے والے انسان تھے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے رازوں سے آگاہ تھے اور اُن کی اندرونی ہوس و خواہشات سے بھی واقف تھے۔ علی علیہ السلام سینے میں ایسا دل رکھتے تھے جو محبت و مہربانی سے مالا مال تھا اور آزادی اور فضائلِ انسان سے پُر تھا۔
آج کے دور میں جب ایسے حالات پیدا کردئیے گئے ہیں جو اقوام کی بدبختی کا باعث ہیں اور دنیا جنگ کے شعلوں کے قریب ہے، یقینا واجب ہے کہ ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ارشادات و اقوال پر کان دھریں اور اُن کو مشعلِ راہ بنالیں اور اُن کے آگے سرِ تعظیم خم کردیں،علی علیہ السلام کی شہادت عدالت کا قتل کی مصداق ہے۔
-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲