24 مارچ 2018 - 17:45
مرجعیت، لندنی تشیع اور سازشیں

انقلاب اسلامی ایران کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے جس طرح عوام میدان عمل میں تھی اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر مرجعیت میدان عمل میں نظر آرہی تھی ۔اگر عوام بے لوث قربانیاں دے رہی تھی تو مرجعیت بھی ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹی ہوئی تھی اور کسی بھی طرح کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: عادل فراز
    مرجعیت اور عزاداری کی طاقت سے دشمن ہمیشہ خوفزدہ رہاہے ۔جس طرح مرجعیت کے نفوذا ور عزاداری کی تحریک کے اثرات سے ہم واقف ہیں اس سے کہیں زیادہ دشمن اور استعماری طاقتیں اس نظام کی اہمیت اور نفوذ کا علم رکھتی ہیں ۔لہذا سازشیں ہمیشہ اس نظام کے خلاف ہوتی ہیں جس سے دشمن کو اپنی بقا اور نابودی کا خطرہ لاحق ہوتاہے ۔اس لئے اس نظام کے خاتمہ کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں اور اگر ہزار جتن کے بعد بھی اس نظام کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا تب دشمن اپناآخر ی ہتھیار آزماتے ہوئے اس نظام کو عوام کے درمیان مشکوک اور کمزور بنانے کی کوششیں کرتاہے ۔دشمن اصل اور حقیقی نظام کے مقابلے میں ویسا ہی دوسرا نظام پیش کرتاہے تاکہ عوام اور کچھ نادان افراد کو دھوکہ دیا جاسکے ۔یا پھر حقیقی نظام کے مقابلے میں ایسا فرضی نظام کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسکی بنیادیں مذہبی عقائد اور مذہبی جذبات پر ٹکی ہوتی ہیں۔ تخریب کاری  اورفریب دہی کے لئے ملنگیت ،نام نہاداخباریت ،قادیانیت ،اور تکفیریت کا سہا را لیا جاتاہے ۔اور اگر پرانی سازشیں دم توڑنے لگتی ہیں تو نیا فتنہ ’’شیرازیت‘‘ کے نام سے ایجاد کیاجاتاہے تاکہ مقدس لبادہ میں نام نہاد مقدس افراد کو پیش کرکے عوام کو دھوکہ دیا جاسکے۔یہ وہ دور ہوتاہے کہ جب دشمن سے کہیں زیادہ نقصان دہ وہ افراد ہوتے ہیں جو ظاہراَ اسی نظام کے تحت زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔دشمن انہیں خریدتاہے اور اس نظام کے خلاف استعمال کرتاہے ۔بعض وہ ہوتے ہیں جنہیں خریدنے کی ضرورت درپیش نہیں آتی کیونکہ وہ لوگ اپنی کم علمی ،جذباتیت اور نادانی کی بنیاد پر دشمن کی سازشوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آج ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے مگر وہ لوگ بھی کم نہیں ہیں جو استعمار کے زر خرید ہیں اور بنام مرجعیت و عزاداری شیعیت کی جڑوں کو کاٹنے کا کام کررہے ہیں مگر یہ خواب دیوانے کا خواب بن کر رہ جاتاہے ۔
    در حقیقت ملنگیت ،نام نہاد اخباریت،قادیانیت،تکفیریت اور شیرازیت آئیڈیالوجی کے لحاظ سے الگ الگ نہیں ہیں ۔ان تحریکوں کے فقط نام مختلف ہیں مگر مقصد ایک ہے کہ کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہونچایا جائے ۔ان کے ’’فکری سوتے ‘‘ایک ہی جگہ سے پھوٹتے ہیں ۔کبھی ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ اسلام مخالف تمام تحریکوں کے دفاتر لندن اور امریکا میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟اسلام دشمن طاقتیں کب سے مسلمانوں کی ہمدرد بن گئی ہیں کہ اسلامی تحریکوں کے لئے اپنے ملکوں میں عالیشان دفتروں کے لئے جگہ دے رہی ہیں اور انکی پشت پناہی کی جارہی ہے۔جو لوگ اسلام کی جڑیں کاٹنے کی فکر میں ہیں وہ انکی جڑوں کو سونے و چاندی کا پانی کیوں دےر ہے ہیں۔حققیت یہ ہے کہ دشمن اسلام کے خلاف بنام اسلام کھڑا ہواہے تاکہ آستین کے سانپ تلاش کرکے مسلمانوں کو ڈسا جاسکے ۔ان سانپوں کو پہچان کر پالنے کے بجائے کچلنے کی ضرورت ہے ۔
نظام اسلامی کی مخالفت کے اسباب:
    ممکن ہے کوئی شخص کسی نظام کے نفاذ میں کمیوں کی بنیاد پر ناراض ہو مگر نفاذ کی کمیوں کی بنیادپر مکمل نظام کو غلط ٹہرانا کون سی منطق ہے ۔ہم جس ملک میں زندگی گزارتے ہیں یہاں بھی اکثر افراد نظام کے نفاذ میں خامیوں اور کوتاہیوں کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ہر حکومتی شعبہ میں بدعنوانی اور رشوت خوری سے عوام پریشان ہے ۔حد یہ ہے کہ ہم حکومتی افراد کے خلاف بھی احتجاج کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے ۔لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ کبھی کسی جمہوری ملک میں اسکے آئین کے خلاف احتجاج ہوا ہو۔اگر آئین میں بھی کوئی کمی ہے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے کوششیں ہوتی ہیں ،نئے قانون زیر نظر آتے ہیں،ایوان میں بل پاس کرائے جاتے ہیں اور آئین کی کمیوں کو دورکرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے مگرکبھی مکمل نظام اور آئین کو غلط ٹہراتے ہوئے اسکے خلاف احتجاجات نہیں ہوتے اور نہ آئین کی توہین کی جاتی ہے ۔اگر جمہوری ملک میں اسکے صدر یا وزیر اعظم کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں تب بھی ان مظاہروں کو جمہوری ملک میں عوام کا بنیادی حق سمجھا جاتاہے ۔ممکن ہے کسی ملک میں مظاہرین پر تشدد کیا جائے یا انکی آواز کو دبانےکی کوشش کی جائے مگر اس ملک کا بیباک میڈیا اور حق گو افراد عوام کی حمایت میں آواز یں بلند کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن اگر عوام یا حکومتی افراد آئین کے تئیں بے یقینی کا شکار ہوں اور آئین کی توہین کریں تو ان پر سخت کاروائی کی جاتی ہے ۔یہاں تک کہ ان پر وطن دشمنی اور ’’دیش دروہ ‘‘ کا الزام تک عائد کردیا جاتاہے کیونکہ ملک کے قانون کے خلاف زبان کھولنا گویا ملک کی سالمیت اور اسکے بنیادی ڈھانچہ کو نقصان پہونچانا ہے ۔اب ذرا غورکریں کہ اگر دنیاوی آئین کی اہانت کرنا اتنا بڑا جرم تصور کیا جاتاہے جبکہ آئین ساز معصوم نہیں ہوتے مگر تب بھی آئین کا احترام واجب کی حد تک ہوتاہے ،تو پھر جس آئین کابنانے والا اللہ ہو اس نظام کو’’فرعونی نظام‘‘ سے تعبیر کرنے والوں کا کیا انجام ہوگا؟
نظام عدل ہی مخالفت کا اصل سبب ہے:    
    تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ کچھ مفاد پرست اور دین فروش افراد اپنی امیدیں بر نہ آنے کی صورت میں تقسیم میں عدالتی نظام کی مخالفت کرتے ہیں ۔یہ مخالفت بظاہر نظام کی مخالفت نہیں ہوتی بلکہ اس نظام کے محافظ اور انتظامیہ کے افراد کی مخالفت ہوتی ہے ۔اگر نظام عدالت کی بنیاد پر حضرت علی ؑ کے نزدیکی افراد انہیں چھوڑ کر دشمن کے ساتھ مل کر بغاوت و سرکشی پر آمادہ ہوسکتے ہیں تو پھر مرجعیت اور نظام ولایت فقیہ کے عدل و انصاف کی بنیاد پر بھی ایسے افراد کا ناراض ہونا یقینی ہے ۔وہ بھی بغاوت کرسکتے ہیں ،نظام کےخلاف سرکشی پر آمادہ ہوسکتے ہیں اور دشمن کے ساتھ ساز باز کے نتیجہ میں اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کے خلاف سازشوں کا حصہ بن جاتے ہیں ۔جنگ جمل در حقیقت حضرت علیؑ کی عدالت اور انصاف کے خلاف جنگ تھی ۔اگر وہ لوگ نظام الہی اور آئین قرآن کو پوری طرح سمجھ رہے ہوتے تو کبھی حضرت علیؑ کے نظام عدل کے خلاف سرکشی پر آمادہ نہ ہوتے ۔آج بھی یکسر یہی صورتحال ہے ۔اگر نظام ولایت فقیہ اور ایران کے آئین کی حقیقت کو لوگوں نے پوری طرح سمجھ لیا ہوتا تو وہ کبھی اسلامی حکومت اورنظام عدل کے خلاف سرکشی کرتےہوئے دشمنوں کی صفوں سے نہ جاملتے۔
استعمار مرجعیت و عزاداری کا دشمن کیوں؟:
    ہمیں غورکرنا چاہئے کہ آخر آج دشمن کا ہدف مرجعیت اور عزاداری کیوں ہے؟اگر ہمارے صاحب نظر افراد انقلاب اسلامی ایران کی تاریخ کا منظر و پس منظر کے ساتھ مطالعہ کریں گے تو باآسانی ان سوالوں کا جواب مل جائے گا ۔ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے مرجعیت اور عزاداری کےخلاف کوئی واضح پروپیگنڈہ نہیں تھا ۔جو سازشیں تھیں وہ منظم اور منصوبہ بند نہیں تھیں ۔کیونکہ دشمن کو مرجعیت کی طاقت کااحساس نہیں تھا اور اس وقت تک نظام مرجعیت ان کے ارادوں اور منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں بڑی روکاٹ نہیں تھا ۔مگر انقلا ب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعدسامراجی و استعماری طاقتوں کوبخوبی یہ احساس ہوگیا تھا کہ مرجعیت اور عزاداری کی طاقت کیاہے ۔اگر مرجعیت نہ ہوتی تو آج ایران میں استعمارکی حکومت قائم ہوتی اور شاہ پہلوی آج بھی ایرانی عوام کا خون چوس رہا ہوتا ۔مگر یہ مرجعیت اور عزاداری کا نظام تھا جس نے عوام میں نظام باطل کے خلاف بیداری پیدا کی اور محاذ آرائی پر آمادہ کیا ۔کیونکہ مرجعیت شہنشاہی و بادشاہی مزاج نہیں رکھتیں بلکہ میدان عمل میں جانفشانیوں اور ایثار میں سبقت کرتی ہے۔یہ بادشاہوں کا مزاج ہوتاہے کہ وہ اپنی فوج اور رعیت کی قربانی دیکر اپنی حکومتوں کی بنیادیں استوارکرتے ہیں مگر مرجعیت ’’فکر کربلا‘‘ اور ’’ مقصد امام حسینؑ‘‘ کی تکمیل کا نام ہے اس لئے یہ نظام شہنشاہی نظام نہیں ہے۔ بقول جوش ملیح آبادی  ؎
            فکر حق سوز یہاں کا شت نہیں کرسکتی         کربلا تاج کو برداشت نہیں کرسکتی
    انقلاب اسلامی ایران کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے جس طرح عوام میدان عمل میں تھی اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر مرجعیت میدان عمل میں نظر آرہی تھی ۔اگر عوام بے لوث قربانیاں دے رہی تھی تو مرجعیت بھی ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹی ہوئی تھی اور کسی بھی طرح کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا ۔یہی وجہ تھی کہ عوام مرجعیت کی اہمیت و افادیت کو سمجھی اور مراجع و فقہا کی سرپرستی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی نظام قائم ہوا۔یہ نظام کوئی نیا نظام نہیں تھا کہ اس کے عالم وجود میں آتےہی دنیا مبہوت رہ جاتی بلکہ وہی نظام تھا جسے قرآن کی شکل میں رسول اللہؐ لیکر آئے تھے اور سنت پیغمبرؐ و سیرت ائمہ معصومینؑ کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ تھا ۔اگر ایران کا آئین بھی کسی نے مرتب کیا ہوتا اور نئے سرے سے لکھا ہوتا تو اس میں بہت سی کمیاں ہوتیں کیونکہ آئین ساز معصوم نہیں ہوتے اور نہ آئین بناتے وقت وہ اپنے مفادات اور ضرورتوں سے صرف نظر کرسکتے ہیں اس لئے آئین میں کمیاں رہ جاتی ہیں اور پھر ہر حکومت اپنے اپنے لحاظ سے اس آئین میں ترمیم کرتی رہتی ہے مگر قابل غور ہے کہ جو نظام اپنی تکمیل کا اعلان غدیر میں کرچکا تھا اس میں ترمیم کی گنجائش کہاں بچتی ہے ۔اس لئے آج بھی جو اس نظام کے مخالف ہیں در اصل وہ لوگ اس نظام عدالت کے خلاف ہیں جو انکے مفادات اور امیدوں کو خلاف قرآن و شریعت پورا نہیں کرسکتا ۔اگر آج امریکہ اور لند ن کی طرح اسلامی نظام بھی انکی غیر شرعی ضرورتوں کو پورا کررہا ہوتا تو یہ سرکشی اور بغاوت کے دن دیکھنے نہ پڑتے ۔اس لئے ہمارے نوجوان اور عوام مخالفوں کے سروں پر عماموں اور چہروں پر داڑھیوں کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ جو نام نہاد علماء اور افراد آج حکومت ولی فقیہ میں نظام عدل کو برداشت نہیں کرسکتے وہ لوگ امام معصومؑ کی حکومت میں نظام عدل و انصاف کو کیسے برداشت کریں گے ۔اس لئے سازشوں اور پروپیگنڈوں کاشکار نہ ہوں اور تذبذب کے عالم میں خداترس علماء کی طرف رجوع کریں تاکہ عاقبت بخیر ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲