اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے یمن پر تین سال سے مسلط کردہ جنگ پر بے پناہ وسائل صرف کئے ہیں اور جہاں درجنوں ممالک کو اس جنگ کے لئے اپنا اتحادی بنایا ہے تو وہیں کئی ممالک اس جنگ کے خلاف بھی ہیں ۔
سعودی عرب نے مشکلات کے باوجود یہ جنگ جاری رکھی ہوئی ہے لیکن اب اس کے قریبی اتحادی امریکہ نے ہی ایسا مطالبہ کر دیا ہے جس کی توقع سعودی عرب کو نہیں تھی ۔
اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یمن کے خلاف امریکی حمایت یافتہ فوجی کارروائی کی قیادت کررہا ہے لیکن اب اس مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے اس جنگ کے جلد از جلد خاتمے کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا۔
امریکی وزیر دفاع نے یہ بات محکمہ دفاع پینٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کے مسئلے کا جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
امریکہ نے یمن جنگ کے حوالے سے سعودی عرب کو بڑی مقادار میں ہتھیار فروخت کئے ہیں۔ لیکن سعودی رعب کے نادان اور جاہل عرب حکمراں اب بھی امریکی ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169