اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، قطر اور اس کا مقاطعہ کرنے والے چار ممالک کے درمیان ابلاغی تنازعے کو 10 مہینے ہورہے ہیں۔ چار ممالک [سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین] کے تازہ ترین موقف میں قطر کو یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا ملزم ٹہرایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صہیونیوں کے ساتھ تعلقات بحال کرکے امریکہ کو قائل کرنا چاہتا ہے کہ وہ ان ممالک پر دباؤ ڈال کر قطر پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا دیں جو 5 جون 2017 سے جاری ہیں۔
دو طرفہ الزامات نہایت مضحکہ خیز ہیں: بطور مثال سعودی قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام بھی لگاتے ہیں اور قطر بھی سعودی عرب پر یہی الزام لگاتا ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب اور مصر، بحرین اور امارات پر یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا الزام لگاتا ہے۔۔۔ جبکہ دونوں الزامات دونوں فریقوں پر ثابت ہیں، دونوں فریق دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں اور دونوں فریقوں کی طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں کافی آگے نکل گئے ہیں۔۔۔ مضحکہ خیزی اس سے بڑھ کر بھی ہوسکتی ہے؛ کیا معقول ہے کہ وہ ایک دوسرے پر بعض اقدامات کا الزام بھی لگائیں اور خود ان ہی اقدامات میں ملوث بھی ہوں!! یقینی امر ہے کہ وہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے یہودی ریاست کی قربت حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
یہودی ریاست کا وزیر اعظم نیتن یاہو جب کابینہ کے اجلاس میں عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت کی بات کرتا ہے تو اس کا مقصد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین جیسے ممالک ہی ہیں جو اس سمت میں آگے بڑھے ہیں۔
واضح رہے کہ خلیج فارس کے بحرین کے دونوں فریق صہیونی ریاست کو بھی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہودی لابیوں کو بھی ایسا وسیلہ سمجھتے ہیں جن کے ذریعے وہ امریکہ کی حمایت حاصل کرسکتے ہیں۔
خلیج فارس کی رقیب ساحلی ریاستیں جانتی ہیں کہ تعلقات عامہ اور امریکی کانگریس اور ذرائع ابلاغ میں یہودی لابیوں کی رضامندی ہی امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے اور امریکہ کی یہودی لابی اسرائیل کے مضبوط اور داہنے بازو کا کردار ادا کرتی ہے اور یہ لابی امریکہ کی فیصلہ سازی میں نہایت مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
صہیونی اخبار “ہاآرتص (Haaretz)” نے گذشتہ مہینے یہودی اور صہیونی ایجنسیوں کے راہنماؤں کے دورہ قطر کی رپورٹ شائع کردی جن میں امریکہ کی صہیونی تنظیم (Zionist Organization of America) کا سربراہ مارٹن کلین (Morton Klein) بھی شامل تھا جس نے جنوری کے پہلے ہفتے میں امیر قطر سے ملاقات کی۔ مارٹن نے ہاآرتص سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے قبل ازیں ستمبر، اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں اس کو دوحہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی جسے اس نے مسترد کردیا تھا!
مارٹن کلین سے قبل بھی صہیونی ـ امریکی شخصیات کا ایک بڑا وفد گذشتہ مہینوں دوحہ کے دورے پر آیا تھا جن میں مائک ہوکابی (Mike Huckabee)، ایلن دیرشویتز (Alan Dershowitz)، امریکہ کی یہودی تنظیموں کی سربراہی کانفرنس کا نائب صدر مالکم ہونلین (Malcolm Hoenlein)، آرتھوڈاکس یہودی اتحاد نامی تنظيم کا سربراہ رابی مناخم جنیک اور امریکی مذہبی صہیونیوں کا سربراہ مارٹن اولینر (Martin Oliner) شامل تھے۔
علاوہ ازیں قطر نے بھی گذشتہ موسم گرما میں اپنا خصوصی ایلچی واشنگٹن روانہ کیا تھا جس نے امریکی حکام اور بائیں بازو کی لابیوں اور جماعتوں سے وابستہ افراد سے ملاقاتیں کیں۔
امریکہ میں قطری سفارتخانے کے لئے لابنگ گروپ کا کردار ادا کرنے والے مرکزی فرم (Lobbying Firm Mercury) نے ایک واشنگٹن میں امریکی وزارت قانون کو ایک رپورٹ پیش کی جس کا تعلق 12 جولائی کو قطری وزیر خارجہ کے خصوصی ایلچی برائے انسداد دہشت گردی “مطلق القحطانی” اور امریکہ میں صہیونی لابی کے حوالے سے مشہور چار امریکی محققین کے درمیان کے مذاکرت سے تھا جن میں سب سے نمایاں شخص مشرق قریب پالیسی انسٹٹیوٹ کے محقق میتھیو لیویٹ (Matthew Levitt) تھا۔
رپورٹ کے مطابق، القحطانی نے اس نشست کے آغاز پر دفاع جمہوریت فاؤنڈيشن (Foundation for Defense of Democracies) کے اجلاس کی طرف اشارہ کیا جو قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام میں تنقید کرتا ہے۔ یہ اجلاس اسی روز منعقد ہوا تھا جس روز خلیج کا بحران پیش آیا۔ القحطانی نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب اور امارات نے دفاع جمہوریت فاؤنڈیشن کو قطر پر تنقید کرنے کے لئے کرائے پر رکھ لیا ہے اور یہ فاؤنڈيشن اسرائیل کی لیکوڈ پارٹی کے ساتھ قریبی تعلق کے حوالے سے مشہور ہے۔
قحطانی اور امریکیوں کے اجلاس کی روئیداد کو ذرائع ابلاغ میں شائع نہیں ہونے دیا گیا اور اس اجلاس میں زیر بحث موضوعات کا ادراک اس وقت ممکن ہوگا جب قطری سفارتکار کے ان الفاظ کو سمجھا جائے گا جو اس نے اس اجلاس میں کہے ہیں۔
اس اجلاس میں امریکی محکمہ خزانہ میں دہشت گردی کی مالی امداد کے انسداد سے متعلق سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ڈینئل ڈینئل گلیزر (Daniel Glaser) نے القحطانی سے پوچھا: کیا قطر نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ غزہ میں قطر کے کردار کے سلسلے میں تشکر پر مبنی بیان جاری کرے؟ تو القحطانی نے کہا: اگر ہم یہ درخواست نہ کرتے تو بعد میں ہمیں اس کا مطالبہ کرنا پڑتا!
القحطانی نے مزید کہا: اسرائیل کی طرف سے تعریف و تحسین کا حصول ہمارے لئے باعث شرم نہیں ہے بلکہ جب تک ہم “اچھے اچھے کام” (1) کرتے ہیں تو جو ہمارا شکریہ ادا کرے گا ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔
القحطانی نے اخوان المسلمین کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا بھی جواب دیا اور کہا: جب تک کہ اقوام متحدہ اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے، دوحہ بھی انہیں دہشت گرد ہی سمجھتا ہے۔
اس قطری سفارتکار نے ایران کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی توسیع کو مسترد کیا اور کہا: اگر دبی [امارات] نہ ہوتا تو ایران واشنگٹن اور اقوام متحدہ کی پابندیوں سے نہ گذر سکتا!!! (2)
القحطانی نے گذشتہ جولائی کے آخر میں امریکہ کے ساتھ یادداشت مفاہمت کے سلسلے میں کہا: اس یادداشت کی شقیں رازدارانہ ہیں اور قطر کے حکام مناسب موقع تک انہیں فاش نہیں کرسکتے لیکن صرف اتنا کافی ہے کہ “نہایت حساس اور اہم معلومات امریکی جاسوسی اداروں کو فراہم کی گئی ہیں”۔
مقاطعہ کرنے والے چار ملکوں کے اقدامات ناکام بنانے کے لئے قطری سفارتکاروں کی ان ملاقاتوں کے موقع پر ہی واشنگٹن میں قطر کے ساتھ تزویری مذاکرات (Strategic Dialogue) کے لئے ماحول سازی کی خبر عام ہوئی اور دو ہفتے قبل یہ مذاکرات واشنگٹن میں انجام پائے۔
قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور وزیر دفاع خالد بن محمد العطیہ کی موجودگی میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر وزیر خارجہ نے امریکی ایوان تجارت کے سیمینار میں بھی شرکت کی جو بائیں بازو کی صہیونی جماعتوں کے ساتھ قریبی تعلقات کے حوالے سے مشہور ہے۔
اسی دوران امریکی فضائیہ ـ جس کا علاقائی اڈہ قطر میں واقع ہے ـ کے کمانڈر نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ قطری فضائیہ کے اسٹراٹجک باربردار طیارے (سی 17) پہلی بار کئی ٹن سازوسامان کی کھیپ لے کر افغانستان پہنچ گئے ہیں اور یہ واقعہ اس حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے کہ قطر خلیج فارس سے باہر کے علاقوں میں امریکی کاروائیوں میں براہ راست شرکت کر رہا ہے۔
ان حقائق کو دیکھتے ہوئے بآسانی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ خلیج فارس کی ریاستوں کے باہمی تناؤ سے امریکہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور اب جبکہ یہودی ریاست کو بھی بحران کی اس لکیر تک کھینچ لایا گیا ہے، ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست بھی خلیج فارس کے علاقے میں قدم جما رہی ہے۔ کیونکہ سعودی ـ یہودی خفیہ مذاکرات ہر روز پچھلے روز سے زیادہ، عیاں ہورہے ہیں؛ اور حال ہی میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے سعودی جوہری پروگرام کے لئے یہودی ریاست کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہے؛ (3) کیونکہ اس سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ ایک قرارداد منعقد کرنے کے بعد ـ جو کہ اگلے ماہ میں اس کے دورہ واشنگٹن کے دوران امکان پذير ہے ـ امریکہ سے درخواست کرے گا کہ جزیرہ نمائے عرب میں جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ دیکھئے: اسرائیل کے نزدیک قطر کے اچھے اچھے کام کیا ہوسکتے ہیں، یقینا فلسطینیوں کی حمایت یا ان کے مفاد میں کوئی بھی کام اچھے اچھے کاموں کے زمرے میں نہیں آئے گا۔۔۔ اور ایسے میں دوسروں کے لئے یہی اچھے اچھے کام باعث شرم گرداننا ـ جو قطر کے لئے باعث شرم نہیں ہیں ـ کیا ایک بھونڈا مذاق نہیں ہے؟ واضح رہے کہ قطری حکومت نے حماس کے کمانڈروں کو گھڑیوں کے تحفے دیئے تھے جن میں جدید آلات نصب تھے اور صہیونی افواج نے ان ہی گھڑیوں کی مدد سے حماس کے ایک اعلی کمانڈر کو شہید کردیا تھا، کیا اس سے بڑا اچھا کام بھی ہوسکتا ہے صہیونیوں کے لئے؟ تو کیا قطریوں کو اس عمل کے عوض پیغام تشکر کی توقع نہیں رکھنا چاہئے تھی؟
2۔ اس وقت جبکہ چار عرب ملکوں نے قطر کا محاصرہ کررکھا ہے، قطری حکمرانوں کے اعترافات کے مطابق، اگر ایران نہ ہوتا تو قطر کو سعودیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے لیکن قطری سفارتکار امریکہ میں بیٹھ کر اس طرح کا موقف اپنا کر ایک طرف سے ایران پر امریکی پابندیوں کی ناکامی پر سوگ مناتا ہے اور دوسری طرف سے اپنے رقیب امارات کو ملزم ٹہرا کر امریکیوں کو اماراتیوں کے خلاف اکساتا ہے: کیا منافقت کے سینگ ہوتے ہیں؟
3۔ تو ایسے میں کیا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ اس بحران یا تناؤ یا نورا کشتی کے پیچھے کس کس کے ہاتھ ہوسکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
17 فروری 2018 - 14:18
News ID: 882286
لبنانی ویب سائٹ العہد نے اپنی رپورٹ بعنوان “صہیونی ریاست خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے باہمی کشمکش کا اصل کھلاڑی” کے ضمن میں لکھا ہے کہ امریکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے باہمی تناؤ میں صہیونی لابی کو بھی بحران کی لکیر تک کھینچ لایا ہے تا کہ اس علاقے میں اسرائیل کی موجودگی کو تقویت پہنچا سکے۔