اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مسعود بارزانی نے عراقی کردستان کے اقتدار سے برطرف ہونے کے بعد اتوار کے روز ایک نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریفرینڈم کا مقصد اپنی مشکلات کا حل تھا لیکن بغداد نے ریفرنڈم کو کردستان پر حملے کا بہانہ قرار دیا۔
بارزانی نے کہا کہ آئین کی بازگشت کے حوالے سے بہت کوششیں کی لیکن سب بے فائدہ تھیں۔
انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ علیحدگی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے لیکن ہمارے ساتھ بہت بڑی خیانت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑوں کے علاوہ کوئی شخص ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہوا اور یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ شرائط عارضی ہیں جو لمبے عرصے تک جاری نہیں رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہم نے کیا اس پر افسوس ہے لیکن ایسے اقدامات کرنے پر مجبور تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے مخالفین نے کرکوک کو جنگ کے بغیر عراقی فوج کے حوالے کرکے بہت بڑی خیانت کی۔
مسعود بارزانی نے کہا کہ کرکوک میں اس طرح کی بڑی خیانت کی امید نہیں تھی اور جو کچھ کرکوک میں ہوا اس سے ایک بہت بڑا شگاف پیدا ہو گیا ہے۔
بارزانی نے مزید کہا کہ اگر ریفرنڈم نہ بھی ہوتا تو بھی عراقی حکومت کرکوک پر حملہ کرتی جبکہ پیشمرگہ فورسز کرکوک میں جھڑپیں اور خونریزی کو روکنے سے پیچھے ہٹ جاتیں۔
انہوں نے اپنے عہدے سے برطرفی کے بارے میں کہا کہ میں نے ارادہ کیا کہ دوبارہ کردستان کے صدر کے طور پر کام نہیں کروں گا اور پیشمرگہ فورسز کے ساتھ خدمات انجام دیتا رہوں گا۔
العالم کے مطابق عراق کی پارلیمنٹ نے مسعود بارزانی کا استعفی اور کردستان میں اختیارات کی تقسیم کو منظور کر لیا ہے۔
عراقی کردستان کی پارلیمنٹ نے اپنے آخری اجلاس میں اختیارات کی تقسیم 23 کے مقابلے میں 70 ارکان کی موافقت سے منظور کرلی ہے۔
اس اجلاس میں سابقہ نشستوں کے برعکس پارلیمنٹ کے اپوزیشن سمیت تمام پارٹیوں کے نمائندوں من جملہ جماعت اسلامی اور گوران نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲