6 ستمبر 2017 - 23:18
65ء کی جنگ، چند یادگار تصاویر

6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا روشن باب ہے، جب پاک فوج نے شجاعت، بہادری اور شیر دلی کی نئی مثالیں قائم کی تھیں اور وطنِ عزیز کا نام ساری دنیا میں روشن کیا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق 1965ء میں بھارتی جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ راتوں رات لاہور پر قابض ہوجائیں گے لیکن پاک فوج اور پاکستانی عوام کی بدولت انہیں بدترین شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ 6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا روشن باب ہے، جب پاک فوج نے شجاعت، بہادری اور شیر دلی کی نئی مثالیں قائم کی تھیں اور وطنِ عزیز کا نام ساری دنیا میں روشن کیا تھا۔ 6 ستمبر 1965 کو آج ہی کے دن پاکستان افواج کے بہادر سپوتوں نے دشمن کو کاری ضرب لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا، جو تا دنیا تک یاد رہے گا، اس جنگ میں مٹھی بھر فوج نے اپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کو ناکو چنے چبوا دیئے تھے۔ اس دن شہید ہونے والوں کی یادگاروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں، جب کہ قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر مختلف پروگرامز بھی نشر کیے جاتے ہیں، یوم دفاع ہمیں ملکی دفاع اور وقار کی خاطر ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے، جب ہمارے سپاہیوں، غازیوں اور شہیدوں ملک کے خاطر اپنی جانوں کو پیش کیا۔ 6 ستمبر 1965 کو دشمن کی جارحیت کے جواب میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ بری ، بحری، فضائی اور جہاں مسلمان فوجیوں نے دفاع وطن میں تن من دھن کی بازی لگائی وہیں پاکستان میں بسنے والی اقلیت بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں پیش پیش رہی۔

6 ستمبر کو دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے شیردل جوانوں نے مذہب اور فرقے سےبالاتر ہو کر وطن عزیز کے چپے چپے کا دفاع کیا، ایئر مارشل ایرک گورڈن ہال نے آزادی کے بعد پاک فضائیہ کے انتخاب کو ترجیح دی جبکہ وہ بھارتی ایئر فورس کا انتخاب بھی کر سکتے تھے، جنگ چھڑی تو انہیں احساس ہوا کہ پاک فضائیہ کے پاس بمبار طیاروں کی کمی ہے۔ انہوں نے سی ون تھرٹی ٹرانسپورٹ طیارے میں تبدیلی کی اور اسے بمباری کے قابل بنایا، ان طیاروں کی مدد سے انہوں نے لاہور کے اٹاری سیکٹرمیں بھارت کے ہیوی توپ خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اسی طرح پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ میک پسٹن جی سپاری والا نے بلوچ ریجمنٹ کی قیادت میں بھارتی سورماوں کو خاک چٹا دی تھی ان کے علاوہ ایئرفورس پائلٹ سیسل چودھری، اسکورڈرن لیڈر ڈیسمنڈہارنے، ونگ کمنڈر نزیر لطیف، ونگ کمانڈر میرون لیزلی اور سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی سمیت بے شمار اقلیتی برادری نے مقدس سرزمین پر بھارت کے ناپاک قدم روکنے کے لیے سر ڈھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں لاہور کے تین اطراف سے حملہ کیا تو عالمی سطح پر بھی بھارت کے اس مکار انہ رویے کی شدید مذمت کی گئی ۔ پاکستان کے سدا بہار دوست چین نے اپنی افواج کے ایک بڑے حصے کو بھارتی بارڈر کے ساتھ لا کھڑا کیا تھا اور مبصروں کے مطابق اسی خوف کی وجہ سے دشمنوں کے بزدل حکمران سیز فائر پر مجبور ہو گئے۔

 
1965کی جنگ کے دوران ایک ضعیف العمر شخص دل چسپی سے پاک فوج کے میجر سے جنگ کے قصے سن رہا ہے
1965، پاک فوج کے افسران اور جوان چھمب سیکٹر میں بھارتی فوج کے ٹینک پر تصویر کھنچواتے ہوئے
1965، پاک فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل محمد موسیٰ خان کھیم کرن ریلوے اسٹیشن پر جوانوں کے ساتھ۔ اس قصبے پر پاک فوج نے قبضہ کرلیا تھا
1965، کمانڈر ان چیف جرنل محمد موسی خان اگلے مورچوں پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے
1965، راجستھان کے راجپوت قلعے پر پاکستانی پرچم اپنی شان و شوکت سے لہرا رہا ہے۔ پاک فوج نے بھارتی حدود میں بارہ سو اسکوائر میل کے اندر تک قبضہ کر
1965، پاک فوج کے افسر قبضے میں لی گئی بھارتی گن کا معائنہ کرتے ہوئے
1965، بھارتی جنگی قیدی کیمپ میں ریس لگارہے ہیں
1965،پاک فوج کے جوان دشمن کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے

.......

/169