اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کی جانب سے سندھ بھر میں پاراچنار کے مومنین سے اظہاریکجہتی کے لیئے احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان اور شعیہ علما کائونسل کی جانب سے مشترکہ احتجاج کیا گیا جس کی قیادت مرکزی جنرل سیکریٹری سید پسند رضوی نے کی، بھٹ شاھ میں عبد علی خاصخیلی اور مجاھد حسین کی قیادت میں احتجاج کیا گیا، کنڈیارو میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے رہنما سید طاہر حسین رضوی، دادو میں سید حامد شاھ ، گھوٹکی میں اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے رہنما سید جواد حسین نقوی کی قیادت میں احتجاج کیئے گئے، احتجاج میں مرکزی صدر اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان ثابت علی ساجدی کا بیان پڑھ کے سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاراچنار کسی زمین کا نام نہیں بلکہ فرزندان توحید کے بسنے والوں کا نام ہے، پاراچنار میں ہزاروں نوجوان شہید ہوئے ہیں مگر کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا،نہ ہی افواج کے سامنے کھڑے ہوئے، افواج پاکستان ہماری افواج ہے، دشمن ہمیں سازش کے ساتھ لڑانے کی ناکام کوشش کر تے آرہے ہیں، انہوں نے مزید کہاہے کہ شہداء کے لواحقین کے دھرنے پہ حملہ ایک سازش ہے ، اس واقع میں ملوث کالی بھڑیوں کے خلاف کاروائی کرکے عبرتناک سزا دیں، حیدرآباد میں سید پسند رضوی نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات میں پاراچنار وہ واحد علاقہ ہے، جہاں سے وطن عزیز اور افواج پاکستان کے حق میں ہمیشہ آواز بلند ہوتی رہی ہے، یہ علاقہ پورے ملک کا فطری دفاع ہے، ان کی ہر حال حفاظت کرنا ہوگی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو پاراچنار کے عوام کا مکمل ساتھ دینا چاہیئے، ان لوگوں کو دانستہ طور پر ریاستی جبر کا شکار بنایا جا رہا ہے تاکہ ان سے ان کی حب الوطنی چھینی جا سکے، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداء کے لواحقین سے احتجاج کا بنیادی حق سلب کیا جا رہا ہے، اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں پر ریاستی اداروں کی طرف سے گولیاں برسائی جانا اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے، آرمی چیف سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے فرقہ واریت پھلانے والے افیسران کے خلاف کاروائی کی جائے،۔
سندھ بھر میں ہونے والے احتجاج میں شریک علماء کرام اور تنظیمی زمہ داران کا کہنا ہے کہ پاراچنار کے مظلومین کی آواز کو دبانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، پاراچنار کی انتظامی تبدیلی اور سیکورٹی کے حوالے سے اہل پاراچنار کے مطالبات پورے ہونے چاہیئے، اس سیکورٹی عملے کے خلاف کاروائی کی جائے جن کی غفلت کے باعث اتنا المناک سانحہ رونما ہوا، پاراچنار کے شہداء کو ملک کے دیگر حصوں کے شہداء سے کسی طور کم نہ سمجھا جائے، ایک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے حکومت کی طرف سے بیس لاکھ روپے فی کس جبکہ پاراچنار کے شہدا کے لئے محض دو لاکھ کا اعلان شہداء کی تضحیک ہے، اس تفریق کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، پاراچنار کا واقعہ بہت بڑا ظلم ہے، وہاں کے باسیوں کا استحصال تسلسل کے ساتھ جاری ہے، پاراچنار کا حالیہ واقعہ کوئی معمولی نہیں، ان غم ناک ایام کو ہم عید کا نام نہیں دے سکتے۔ پاراچنار میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ وطن عزیز کی سالمیت پر حملہ ہے، پاراچنار کی عوام کے مطالبات ہمارے مطالبات ہیں، جن کی منظوری کے لئے ملک گیر حمایت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارا چنار میں سیکورٹی کے اختیارات ایف سی سے واپس لے کر لوکل سطح پر ملیشیا کو دیئے جائیں، پاراچنار شہداء کے لواحقین کو معاوضے دیئے جائیں۔











۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲