ابنا: صہیونی ویب سائٹ دبکا فائل (Debka File) نے شام کی موجودہ صورتحال پر ایک رپورٹ شائع کی اور نیتن یاہو کے دورہ روس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر پوتین نیتن یاہو سے وعدہ بھی کرلیں کہ وہ ایرانی فوجیوں کو اسرائیل سے ملحق شام کی سرحدوں سے دور رکھیں گے تب بھی وہ اس عمل نہیں کرسکتے کیونکہ وہ کوئی وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
رپورٹ میں آیا ہے کہ روسی انٹلی جنس سے رابطہ رکھنے کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلسل تنقیدیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے فی الحال شام کو ایران کے چنگل سے نجات دلانے کے منصوبے سے بھی عقب نشینی اختیار کررکھی ہے۔
مشرق وسطیٰ سے متعلق ٹرمپ کی تمام سیاستیں اس وقت ہوا میں معلق ہیں۔ اور دوسری طرف سے انہیں اندرونی مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی سیاست کے مبہم ہونے کی وجہ سے تمام معاملات کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں اور جمعرات کے روز (9 مارچ) نیتن یاہو اور ولادیمیر پوتین کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایسا نہیں لگتا کہ کوئی خاص نتیجہ سامنے آپائے گا۔
دبکا فائل نے لکھا اگر نیتن یاہو پوتین کو اسرائیل سے ملحق سرحدوں سے ایرانی اور حزب اللہی فوجیوں کو ہٹانے کے لیے راضی بھی کرلیں تب بھی پوتین ایران کی فوج کو نہیں روک پائیں گے۔
دبکا فائل نے یہ بھی لکھا کہ روسی حکام یہ کہتے ہیں کہ وہ شامی فوج کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، اس بیان سے ان کی مراد ایرانی سپاہ پاداران اور حزب اللہ کے فوجی ہیں کیونکہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران شامی فوج تقریباً ختم ہوچکی ہے۔
لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پوتین نے وعدہ بھی کرلیا کہ وہ ایرانی فوجیوں کو اسرائیل کی سرحدوں سے دور رکھیں گے تو ان کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کا وعدہ کرسکیں۔ جب کہ امریکہ نے میدان جنگ سے فی الحال دوری اختیار کررکھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169