اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے اتوار کی صبح جدید ترین تباہ کن بحری جہاز سہند کے عرشے پر کھڑے ہوکر، ولایت پچانوے نامی عظیم بحری مشقوں کے آخری مرحلے آغاز کا اعلان کیا۔ولایت پچانوے بحری مشقیں آبنائے ہرمز سے لیکر، بحیرہ عمان، شمالی بحر ہند اور آبنائے باب المندب کے دو ملین کلو میٹرمربع کے علاقے میں، دس ڈگری کے مدار میں انجام دی جارہی ہیںان مشقوں میں بحریہ کے جنگی بوٹیں، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق فرضی دشمن کے خلاف مختلف طرح کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔علاوہ ازیں پورے مکران کی ساحلی پٹی پر چوالیس کلومیٹر کی حدود میں بحریہ کے تربیت یافتہ کمانڈو دستے بھی تعینات ہیں جو ملک کی آبی سرحدوں کے تحفظ کی مشق انجام دے رہے ہیں۔ہیلی کاپٹر بردار بحری جہازوں کے علاوہ بحریہ کے اسٹریٹیجک فورس کے ہوائی جہاز بھی علاقے پر گشت اور فرضی دشمن کی پل کی پل کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ڈورن طیاروں کا حامل بحری جہاز بھی علاقے میں ہر طرح کی نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے- بحری مشقوں کے دوران ایرانی سائنسدانوں کے تیار کردہ جدید ترین ریڈار سسٹم ، نیو سوناری اور چیف کا بھی تجربہ کیا جارہا ہے۔بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے مشقوں کے آغاز کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ولایت پچانوے فوجی مشقیں بحریہ کی سالانہ مشقیں ہیں جن میں بحریہ کا ایئر ونگ بھی بھرپور طریقے سے حصہ لے رہا ہے اور علاقے میں ہونے والے ہر نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد ملک کی آبی سرحدوں کا دفاع ، علاقے میں سیکورٹی کی فراہمی کو یقینی بنانا، دہشت گردی اور بحری قزاقی کا مقابلہ کرنا اور خطے کے ملکوں کو امن اور دوستی کا پیغام دینا ہے۔
.......
/169