22 فروری 2017 - 19:27
ٹرمپ کے نفرت انگیز نعروں نے پوری دنیا میں تفرقہ پیدا کر دیا ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے نفرت انگیز نعروں نے پوری دنیا میں تفرقہ پیدا اور اس دنیا کو ایک تاریک مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کے روز ایک سو انسٹھ ملکوں کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکہ کے صدارتی انتخابات سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران لگائے جانے والے نعروں اور اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار سولہ میں سیاستدانوں نے انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لئے انسانی وقار و مساوات کو پیروں تلے روندا ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری کئے جانے والے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں آیا ہے کہ دنیا کو پرتشدد بنانے اور اس دنیا میں تفرقہ و انتشار پیدا کرنے کے لئے ٹرمپ کے انتخابی نعروں کی باقاعدہ مثال دی جاسکتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں آیا ہے کہ یورپ و امریکہ میں پناہ گزینوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات نے دنیا کو عدم استحکام کے ساتھ ساتھ مزید تاریک دور میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بارے میں ابتدائی علامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ ایسی خارجہ پالیسی کے درپے ہوں گے جو کافی حد تک کثیر جانبہ تعاون کے کمزور پڑنے کا باعث بنے گی اور ایک ایسا دور شروع ہو گا کہ جس میں دنیا میں عدم استحکام اور ایک دوسرے کی نسبت بد گمانی میں اضافہ ہو گا۔
امریکہ کے نئے صدر کو اپنے کرتوتوں کی بنا پر وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد ہی بعض حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جنھوں نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسی کو سجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے ایک ایسے حکمنامے پر دستخط کئے جس کے تحت سات اسلامی ملکوں منجملہ ایران،عراق، شام، لیبیا، یمن سوڈان اور صومالیہ کے شہریوں پر کہ جہاں بیشتر مسلمان آباد ہیں، تین ماہ کے لئے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادی گئی۔
امریکی صدر کے اس حکمنامے کے بعد امریکی شہریوں نے ایئرپورٹ پر خاص طور سے مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرے کئے اور یہاں تک کہ امریکی عدالت نے ٹرمپ کے اس حکمنامے کو معطل کئے جانے کا حکم سنا دیا۔
ٹرمپ نے حال ہی میں پھر اعلان کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے بارے میں نیا حکمنامہ جاری کریں گے جو مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے کے خلاف پہلے حکمنامے کی مانند ہو گا۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ عالمی پالیسیوں میں ضرورت و عمل اور نعروں اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھا ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی آیا ہے کہ دو ہزار سولہ میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے سیاستدانوں کے درمیان ،ہم ان کے مقابلے میں، کی اصطلاح کا اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ اس نے خوف و ہراس اور نفرت و بیزاری کے قیام میں اس سال کو سنہ انّیس سو تیس سے بھی ذیادہ بدتر بنا دیا۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اعلان کیا ہےکہ لفاظی اور نعرے قابل قبول امر کی تبدیلی پر منتج ہوئے ہیں اور سیاستداں، بے حیائی کے ساتھ عورتوں کے خلاف اور اپنے نسل پرستانہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲