اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روسی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں امریکی تاریخدان ’’ٹاڈ پیئرس‘‘نےکہاکہ امریکی صدر اوبامہ کی طرف سے شام میں سرگرم نام نہاد اعتدال پسند گروہوں کو مسلح کرنے کے فیصلے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہےکہ ان کے سرپر یہودی لابی اورقدامت پسند امریکیوں کی طرح جنگی جنون سوار ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ صدراوبامہ نے اپنے فیصلے سے ڈیموکریٹک پارٹی جو خود کو جنگی جنون حامل ریپبلکن پارٹی سے خود کو مختلف ہونے کا دعویٰ کرتی ہے کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ امریکی صدرتکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ اوردیگر دہشتگرد گروہوں کی حمایت کرکے سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ میں سرگرم قدامت پسند صیہونی ایران اورروس کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بہانے تلاشتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ میں صیہونی نواز قدامت پسند اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ روس کےساتھ کسی بھی طرح کے تصادم کے خواہان نہیں ۔
انہوں نے کہاکہ صدر بارک اوبامہ صیہونی نواز قدامت پسندوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر 2009ء سے مختلف تنازعات کو ہواد ے چکے ہیں تاہم انہوں نے شام پر براہ راست حملے کرنے کے مشن کو جنگی جنون کی حامل سابق امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن کو سونپنے کی کوشش کی۔
قابل ذکر ہےکہ امریکی صدربار ک اوبامہ ابھی بھی شام پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن انہیں کئی سے حمایت نہیں مل رہی ۔
اب ایک امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہےکہ امریکہ کے مہلک ہتھیار شامی دہشتگردوں کہ جنہیں مغرب اعتدال پسند ہونے کا لیبل لگاتا آرہاہے کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھاہےکہ سی آئی اے کی جانب سے ہتھیاروں کی کھیپ شام میں دہشتگردوں کی دی جارہی ہے اوران میں مہلک اورغیر مہلک دونوں طرح کے ہتھیار اورتکنیکی آلات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے گاڑیاں ،میڈیکل کیٹ ،موسلاتی آلات اورکئی دوسری اشیا بھی صدربشارالاسد کے مخالفین کو بھیجی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲