اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جو ہندوستان دورے کے بعد چین کے دورے پر ہیں، نے بیجنگ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے دہشتگردی اور انتہاپسندی کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: دہشتگردوں کے ساتھ جنگ اور شام کی تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر، ممکن ہے کہ مسائل موذی مرض کی طرح دیگر علاقوں میں بھی سرایت کر جائیں جیسا کہ ملائیشاء میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کا کسی دوسرے ملک میں انتقال کی روک تھام مشکل ہے کیونکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی ایک ایسا موذی مرض ہے جو کہیں بھی سرایت کر سکتا ہے اور اب یہ سارے مسائل دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں تاہم ہمیں یہ درک کرنا چاہئے کہ سامراجی رجحانات مزید کامیاب نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے شام جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ شام جنگ کو ہار جیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اگرپورے نظام سے ایک شخص (بشار اسد) کی جانے پر تاکید کریں تو اس کے بھی حامی موجود ہیں اور مخالفین کے لئے بھی یہی صورتحال ہے۔ لیکن اگر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس میں طرفین کو مدنظر رکھا جائے تو اس صورت میں کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی جاتا ہے۔








۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲