اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان بھر سے اربعین مارچ میں شرکت کرنے والے زائرین نہایت مشکلات برداشت کر کے ایران کے بارڈر میرجاوہ پہنچ جاتے ہیں۔
زائرین بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ کے خدشات کے باوجود عشق امام حسین علیہ السلام سے سرشار ہو کر ہر قسم کے خطرے کو مول لیتے ہوئے مقامات مقدسہ پر حاضری دینے کے لئے تفتان سے ایران کی سرزمین میرجاوہ پر قدم رکھتے ہیں جہاں اس علاقے کے مکین جو کہ اہل سنت برادری سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا گرم جوشی سے استقبال کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
سیستان وبلوچستان کے قبائلی تنظیم کے سربراہ مهدی جهانزاده نے کہا ہے کہ پاکستانی زائرین کے استقبال کے لئے علاقے کے مکینوں نے پاک ایران سرحد پر کیمپ لگایا ہے جس میں زائرین کے لئے کھانے پینے کی اشیاء مہیا کی گئی ہیں۔
پاکستانی زائرین کا گذر ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان سے ہوتا ہے، سیستانیوں اور بلوچیوں نے زائرین کی خدمت کے لئے اپنا کاروبار چھوڑ کر ان کی خدمت کے لئے سڑکوں پر خیمیں نصب کردئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرجاوہ کے علاوہ زاہدان شہر میں بھی زائرسرای اور خیمیں وغیرہ نصب کئے گئے ہیں جہاں زائرین اربعین کو مختلف قسم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زائرین کی استقبال کے لئے اہل سنت برادری سے تعلق رکھنے والے بزرگ پیش پیش ہیں اور اپنے پاکستانی شیعہ بھائیوں کو امن و اخوت کا پیغام دے رہے ہیں۔




