6 نومبر 2016 - 14:46
ایران کی علاقائی سالمیت پر کسی کو میلی نگاہ ڈالنے کا حق نہیں: سینئر نائب صدر

سنئیر ایرانی نائب صدر نے خلیج فارس تعاون کونسل کی حالیہ کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ کے متن کو ایران مخالف پیغام قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو بھی ایران کی علاقائی سالمیت پر میلی نگاہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنئیر ایرانی نائب صدر نے خلیج فارس تعاون کونسل کی حالیہ کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ کے متن کو ایران مخالف پیغام قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو بھی ایران کی علاقائی سالمیت پر میلی نگاہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.

ان خيالات کا اظہار 'اسحاق جہانگيري' نے گزشتہ روز ايران کے دورے پر آئے ہوئے ترک وزير خزانہ 'نہاد زے بيگچي' کے ساتھ ايک ملاقات ميں گفتگو کرتے ہوئے کيا.

اس موقع پر ايران اور ترکي کے درميان ديرينہ تعلقات اور قريبي تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ترک ميں حاليہ فوجي بغاوت کي کوشش کي ناکامي پر مسرت کا اظہار کيا.

انہوں نے کہا کہ ايران، ترکي ميں ناکام فوجي بغاوت کے شروع کے لمحات ميں ہي اس اقدام کي شديد مذمت کي تھي کيونکہ ہم سمجھتے ہيں کہ ہمارے خطے ميں فوجي بغاوت کي کوئي گنجائش نہيں اور عوامي خواہشات اور ان کے ووٹ کو بغاوت کے ساتھ نظرانداز نہيں کيا جاسکتا.

جہانگيري نے فوجي بغاوت کے سامنے کھڑے ہونے پر ترک عوام کے کردار کو اہم قرار ديا.

انہوں نے کہا کہ ايران اور ترکي کے درميان قريبي تعاون اور ديرينہ تعلقات قائم ہيں اور مزيدبرآں دونوں ممالک کے درميان چاہئے پابنديوں سے پہلے ہو يا جوہري معاہدے کے نفاذ کے بعد بھي مضبوط اقتصادي تعاون جاري ہے.

انہوں نے کہا کہ بعض خطي مسائل پر ايران اور ترکي کے درميان اختلاف رائے ہوسکتا ہے مگر ہم سمجھتے ہيں خطے ميں تشدد کے بغير ايسے اختلافات کو باہمي مذاکرات کے ذريعے حل کرسکتے ہيں.

خطي معاملات پر ترکي کے حاليہ مؤقف کا حوالہ ديتے ہوئے سنئير نائب ايراني صدر نے کہا کہ ہم ترکي سے يہ توقع نہيں رکھتے ہيں کہ وہ عراقي صورتحال، اہل تشيع اور ايران کے حوالے سے سعودي عرب جيسا مؤقف اختيار کرے، کيونکہ رياض حکومت داعش اور دہشتگرد گروہوں کي حمايت کرتے ہيں مگر ہم انقرہ اور رياض کے مؤقف ميں فرق رکھتے ہيں.

انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ شيعہ مسلمان ہرگز مذہبي اختلافات کے خواہاں نہيں اور حقيقت يہ ہے کہ شيعوں کے خلاف سازشيں ہورہي ہيں. بعض اوقات شيعہ،سني جنگ کي آڑ ميں ان دونوں مذہبي فرقوں کے درميان انتشار پھيلانے کي سازشيں ہوتي ہيں مگر ہيں چاہئے مشرق وسطي ميں قيام امن و استحکام کي بالادستي کے لئے ان تمام سازشوں سے مل کر مقابلہ کريں.

اس موقع پر ايران اور ترکي کے رہنماؤں نے تجارتي اور اقتصادي شعبوں ميں موجودہ تعاون کي فضا کو مزيد بڑھانے پر اتفاق کيا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲