15 اکتوبر 2016 - 17:24
قدس شریف کے بارے میں یونیسکو کی قرارداد پر امریکہ اور اسرائیل سیخ پا

اقوام متحدہ کی تنظیم یونسکو نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مسجد الاقصی اور خاص طور پر قدس شریف کے مقدس مقامات کے ساتھ یہودیوں کے ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رابطے کو مسترد کیا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے یونیسکو کی جانب سے قدس شریف اور مسجد الاقصی میں صہیونی حکومت کے تسلط پسندانہ اقدامات کو غیر قانونی قرار دیئے جانے پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، یونیسکو کی حالیہ قرارداد پر توجہ دیئے بغیر ان علاقوں میں اپنی کالونیوں کی تعمیر کے لئے، اپنے منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی مسجد الاقصی اور قدس شریف میں اسرائیل کی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دینے اور الخلیل میں حرم ابراہیمی کے احاطے اور بیت اللحم میں ایک مسجد کے فلسطینی سرزمین ہونے کی حمایت پر مبنی یونیسکو کے حالیہ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یونیسکو کا یہ اقدام علاقے کی مسائل کے حل میں کسی قسم کی مدد نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کی تنظیم یونسکو نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مسجد الاقصی اور خاص طور پر قدس شریف کے مقدس مقامات کے ساتھ یہودیوں کے ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رابطے کو مسترد کیا گیا ہے۔

24 ملکوں نے اس بل میں فلسطین کی حمایت میں ووٹ دیا  ہے، جبکہ چھ ملکوں نے اس بل کی مخالفت کی اور 26 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

یونیسکو کی حالیہ قرارداد میں قدس شریف اور مسجد الاقصی میں دیگر ادیان کے افراد کی آمد و رفت کو روکنے اور قدس شریف کی تاریخی حیثیت کے خلاف صہیونیوں کے اقدامات کو نہ صرف مسترد کیا گیا ہے، بلکہ تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل حتمی طور پر غاصب حکومت کے عنوان سے اپنی تمام تسلط پسندانہ اور تشدّد آمیز سرگرمیوں کو بند کرے اور اس عالمی ادارے کی تمام قراردادوں اور قوانین پر عمل کرے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ  بیت المقدس پر مکمل قبضہ ہمیشہ سے غاصب صہیونی حکومت کے ایجنڈے میں رہا ہے اور یہ وہ مسئلہ جس پر صہیونی حکومت سرزمین فلسطین پر قبضے کے زمانے سے ہی اس پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے، لیکن سن 2014 سے اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر اپنے مرحلہ وار قبضے کے منصوبے کے تناظر میں فلسطینی سرزمینوں پر اپنے تسلط پسندانہ اہداف کو تیز کر دیا ہے۔

بیت المقدس پر قبضے کو مضبوط کرنے کے لئے صہیونی حکومت کے تمام اقدامات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 478 کے خلاف ہیں کہ جس میں صراحت کے ساتھ عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ قدس شریف کو مقبوضہ فلسطین میں شامل کرنے اور غاصبانہ قبضے کے جاری رہنے جیسے ہر قسم کے صہیونی حکومت کے اقدام اور قدس شریف کے انتظامات چلانے میں اس کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو قانونی طور پر تسلیم نہ کرے اور ان اقدامات کا ڈٹ کر مقابلے کرے۔

ان حالات میں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ سے وابستہ ایک ادارے کے عنوان سے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت نے صہیونی حکومت کی تسلط پسندی کے مقابلے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کےساتھ ہی فلسطینیوں کے نصب العین کے حصول کے لئے زمین ہموار کردی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس میں صہیونی حکومت کے اقدامات کی مذمت میں یونیسکو کے اکثر مواقف، فلسطینی علاقوں میں صہیونی حکومت کے تسلط پسندانہ اقدامات کے حوالے سے عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی حساسیت کے غمّاز ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ صہیونی حکومت کے اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور عالمی برادری، صہیونی حکومت کے جرائم روکنے کے لئے فوری اور ٹھوس فیصلے کرے۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲