اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور میں منعقدہ ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس میں آئندہ 3 سال کیلئے جمعیت علمائے پاکستان کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کو صدر اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ علامہ سید ساجد علی نقوی سینیئر نائب صدر اور مولانا امجد خان، حافظ عبدالرحمن مکی، سید ہارون گیلانی، سید نیاز حسین نقوی، حافظ عاکف سعید، مولانا اللہ وسایا، پیر صاحبزادہ عبدالرحیم نقشبندی، علامہ امین شہیدی، انجینئر ابتسام الٰہی ظہیر، حافظ عبد الغفار روپڑی کو متفقہ طور پر نائب صدر منتخب کر لیا گیا۔ اجلاس کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے دیگر قائدین کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے قوم کے سامنے ایک خوبصورت گلدستہ پیش کر دیا ہے اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے کہ آج پوری دینی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہے، یہی ملت اسلامیہ کی حقیقی قیادت اور اصل قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت ہے، جس کے دفاع کو ہم مقدس جہاد سمجھتے ہیں، بھارت نے مہم جوئی کی تو 65ء سے بری شکست اس کا مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانی بند کرنے کی دھمکی کو ہم اعلان جنگ سمجھتے ہیں اور بھارت نے جس دن پانی بند کرنے کی کوشش کی اسی دن جنگ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو بکھر جائے گا اور اس کا نام و نشان زمین پر نہیں رہے گا، بھارت کے اندر درجنوں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں، دلت، تامل اور سکھوں سمیت اقلیتیں بھارت سے خود مختاری کا مطالبہ کر رہی ہیں، بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا اور ان شاء اللہ نہ صرف کشمیر کو آزادی ملے گی بلکہ بھارت کے اندر ایک نیا پاکستان بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں بھارت کی تھانیداری نہیں چلنے دیں گے، پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے شدید خطرہ ہے اور تمام پڑوسی ممالک بھارتی سازشوں سے بری طرح تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر بھارتی رویہ خطے کی سلامتی اور امن کیلئے انتہائی خطرناک ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل نے کرپشن کیخلاف منبر و محراب سے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اب پاکستان اور کرپشن اکٹھے نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مالی کرپشن کیساتھ ساتھ حکمرانوں کی اخلاقی اور نظریاتی کرپشن کے سدباب کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک میں نظام مصطفٰی ﷺ کا نفاذ چاہتے ہیں اور ایسی نام نہاد جمہوریت کے قطعاً قائل نہیں جس کا قبلہ مکہ و مدینہ کی بجائے لندن اور واشنگٹن ہو۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں ملکی آئین کو قرآن و سنت کے تابع بنانے کی ہدایت کی تھی، ہم امریکی یاروں اور وفاداروں کی جمہوریت نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 71ء میں متحدہ پاکستان کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کو بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر لٹکایا جا رہا ہے، لیکن ہمارے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان پر نچھاور ہونیوالے بنگلہ دیش کے رہنماﺅں کا تذکرہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 74ء میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی معاہدہ عالمی عدالت میں پیش کیا جائے اور بنگلہ دیشی جیلوں میں بند 24 ہزار بے گناہ کارکنوں کی رہائی کی کوشش کی جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے کرپشن کیخلاف 30 ستمبر کو فیصل آباد میں ہونیوالے جماعت اسلامی کے جلسے میں شرکت کی بھی سب کو دعوت دی۔
قبل ازیں نو منتخب صدر ملی یکجہتی کونسل صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملی یکجہتی کونسل جمعہ 30 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان اور یوم اتحاد امت کے طور پر منائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل فوج کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑے گی، بھارت کی دھمکیوں اور مظالم کا پوری دنیا میں پردہ چاک ہوچکا ہے، برہان وانی شہید اور کشمیری عوام نے اپنے خون سے ایک نیا جذبہ اور ولولہ تازہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کے اندر بھارتی مداخلت کے کلبھوشن جیسے زندہ ثبوت کو عالمی برادری کے سامنے پیش نہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے، بھارت روزانہ دنیا کو نئے نئے ڈرامے کرکے دکھا رہا ہے اور ہم ناقابل تردید حقائق کو بھی دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ قوم پاک فوج کیساتھ ہے اور اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تو قیامت تک یاد رکھے گا۔ انہوں ختم نبوت قانون میں ترمیم کی سازشوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مائی کے لال میں یہ جرات نہیں کہ وہ ختم نبوت قانون کو ختم یا اس میں ترمیم کرے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو انہوں نے 35 سالہ میزبانی کے فوائد کو ضائع کرنے اور مہمان نوازی پر پانی پھیرنے کے مترادف قرار دیا۔ قومی میڈیا سے فحاشی اور عریانی کے پروگرامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں حکومت سے کہا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں فواحش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر محمد زبیر نے سرکاری تعلیمی اداروں اور مدارس اسلامیہ کو یکساں حیثیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محض غیر ملکی امداد کے حصول کیلئے مدارس پر پابندیاں عائد کرنا اور رجسٹریشن کے نام پر طلباء اور اساتذہ کو ہراساں کرنا ناقابل برداشت ہے، اس کا فوری تدارک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام اور نصاب کو بدلنے اور اسے امریکہ اور مغرب کی خواہشات کا تابع بنانے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، امیر العظیم، عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور، آصف لقمان قاضی، حافظ ساجد انور اور دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲