اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے امریکا کے این بی سی ٹیلی ویژن چینل سے اپنے انٹرویو میں ایران کے ساتھ دیگر ملکوں کے بینکوں اورمالی اداروں کے تعاون کی راہ میں امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی آٹھ سالہ مدت کے اختتام کے بعد بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا-
انہوں نے ایٹمی معاہدے کے ناقدین خاص طور پر امریکا کے ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو جن میں انہوں نے ایٹمی معاہدے کو وحشتناک قراردیا ہے، مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر سات ملکوں اور اقوام متحدہ نے دستخط کئے ہیں ، اور آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہی اس پر عمل کیا جارہاہے -
صدر مملکت نے کہا کہ انتخابی امیدوار ہر وہ بات جو انتخابی مہم کے دوران ان کے لئے فائدہ مند ہو کہتے ہیں لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اس معاہدے کو قبول نہ کرے -
انہوں نے شام کی جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک سیاسی راہ حل تک پہنچنے کی ضرورت ہر زوردیتے ہوئے کہا کہ شام کی جنگ کو فوجی طریقے سے نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ہی ختم کیا جاسکتاہے - انہوں نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ شام کے بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکے گا کہا کہ اس میں شک نہیں کہ شام کے عوام کی مشکلات کو سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ شام کی جغرافیائی حدود میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے کہا کہ شام کی حکومت کے بارے میں بھی فیصلہ انتخابات کے ذریعے ہی ہونا چاہئے اور شام میں حکومت کا معیاراور ملاک عوام کے ووٹ اور ان کی خواہشات و مرضی ہے - ان کا کہنا تھا کہ شام کے عوام ہی اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق رکھتے ہیں -
۔۔۔۔۔۔۔
/169