17 ستمبر 2016 - 16:02
مسجد جمکران دنیا والوں کو امیرالمومنین﴿ٕع﴾ اورمکتب تشیع کا تعارف کروانے کی صلاحیت رکھتی ہے

کوشش کی گئی ہےکہ تشیع کو صحیح نہ پچانیں،یہاں تک کہ مغرب بھی اہل سنت کی کتابوں سے تشیع کی شناخت رکھتا ہے،درحالانکہ شیعہ ہی اصل اسلام ہے اوراس وقت دنیا کو تشیع کی شناخت کی ضرورت ہے اورمسجد مقدس جمکران اس سلسلے میں اہم کردارادا کرسکتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا نےمسجد مقدس جمکران کے تعلقات عامہ کے حوالے سےنقل کیا ہے کہ تشیع کےمرجع تقلید آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نےعیدغدیر کی مناسبت سے مسجد جمکران کے متولی اورخادموں سےملاقات کے دوران کہا ہے کہ آپ نے مسجد جمکران میں بہت اچھے اوروسیع اقدامات انجام دیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ انبیاء اوراولیائےالہی مختلف قسم کی صفات کے مالک تھے منجملہ حضرت نوح علیہ السلام کی حکمت،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سخاوت،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شجاعت،حضرت عیسی علیہ السلام کی عبادت اورحضرت داوود علیہ السلام کا زہد ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہیں۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے کہا ہےکہ معاشرے میں امام علی علیہ السلام کی شخصیت کی وضاحت ہونی چاہیے ۔اس وقت ایک اہم موجوع تکفیریوں کا مقابلہ کرنا ہےکیونکہ وہ امام علی علیہ السلام کے فضائل کو مخفی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے معارف لوگوں تک نہ پہنچ سکیں۔
تشیع کےمرجع عالیمقام نےمزید کہا ہےکہ غدیرفقط ایک دن کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہردورکے لیے ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام سیاست،زہد اورعبادت کے لحاظ سے اسلامی حکومت کے لیے نمونہ عمل ہیں۔ لہذا ہم پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کےذریعے دنیا والوں کے سامنے اسلام اوراسلامی حکومت کا تعارف کروائیں۔
انہوں نےکہا ہے کہ ہمیں اہل سنت کی کتابوں سے امیرالمومنین علیہ السلام کی عظمت اورشخصیت کا تعارف کروانا چاہیے اورآج تکفیریوں کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے کیونکہ وہ ولایت کے خلاف محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نےمسجد مقدس جمکران کو دنیا والوں کے سامنے اسلام کے پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک پورے شام میں فتنہ وفساد برپا نہیں ہوگا اس وقت تک حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہورنہیں ہوگا اورآج ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام میں کیا ہورہا ہے اورپوری دنیا کے دہشتگرد اس علاقے میں داخل ہوگئے ہوئے ہیں۔

.......

/169