17 ستمبر 2016 - 11:36
کیا سعودی عرب کی نابودی کا وقت نزدیک ہے

سعودی عرب کے سابق بادشاہ ملک عبداللہ کے مشیر اور سعودی عرب کے اقتصادی معمار نے سعودی عرب کی موجودہ رفتار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب تباہی کے راستے پر گامزن ہے سعودی عرب ٹوٹ جائے گا اور مغربی ممالا اس کی ہرگز مدد نہیں کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سابق بادشاہ ملک عبداللہ کے مشیر اور سعودی عرب کے اقتصادی معمار حسین عسکری نے سعودی عرب کی موجودہ رفتار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب تباہی کے راستے پر گامزن ہے سعودی عرب عنقریب ٹوٹ جائے گا اور مغربی ممالک اس کی مدد نہیں کریں گے۔

حسین عسکری نے امریکی اخبار ہافینگٹن میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد دوم اور وزیر دفاع محمد بن سلمان کے 2030 کے بلند مدت منصوبے کے باوجود سعودی عرب ٹوٹ جائے گا ۔ عسکری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تباہی اور اس کے ٹوٹنے کی صورت مين مغربی ممالک بھی اس کی حمایت ترک کردیں گے۔

حسین عسکری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ڈوبنے اور ٹوٹنے کی صورت میں کیا امریکہ اور برطانیہ اس کی مدد کریں گے ؟ اس سوال کا جواب منفی ہے کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی مکر و فریب پر مبنی ہے اور جب وہ سعودی عرب کو ڈوبتا ہوا دیکھیں گے تو وہ جلدی سے خود کو الگ تھلگ کرلیں گے۔

سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے پروفیسر حسین عسکری کے اخبار ہافینگثن میں شائع ہونے والے اس مضمون کو سنسر کردیا ہے اور سعودی عرب کے 20 ملین انٹرنیٹ صارفین کو ان کے اس مضمون سے محروم کردیا ہے۔

سعودی عرب کے سابق بادشاہ ملک عبداللہ کے مشیر اور سعودی عرب کے اقتصادی معمار حسین عسکری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سخت قوانین ہیں یہاں ازادی بیان نہ ہونے کے برابر ہے ، ذرائع ابلاغ کی آزادی کے سلسلے میں رپورٹر ود آؤٹ بارڈر کی 2016 ء کی رپورٹ کے مطابق 180 ممالک میں آزادی بیان میں سعودی عرب کا رتبہ 165 ہے ۔

رپورٹر ود آؤٹ بارڈر کی 2014 ء کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب انٹرنیٹ سائٹوں کو بلاک کرنے والا پہلا ملک ہے سعودی حکام خود یہ دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے 4 لاکھ سائٹوں کو بند کررکھا ہے اور درجنوں بلاگر آج بھی سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں۔

پروفیسر حسین عسکری کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے تمام اقتصادی منصوبے سیاسی اصلاحات کے بغیر ناکام ہوجائیں گے سعودی عرب میں اقتصادی منصوبوں کی کامیابی کے لئے سیاسی اصلاحات بہت ضروری ہیں۔

عسکری سعودی عرب کے وزیر خزانہ کے معاون بھی رہ چکے ہیں وہ جرج واشنگٹن یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور اور تجارت کے استاد بھی ہیں وہ پہلے اقتصاد دان ہیں جس نے تیل کی قیمت 40 ڈالر تک گرنے کی پیشنگوئی کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169