اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کی رات مشترکہ جامع ایکشن پلان میں شریک عہدیداروں کے ساتھ افطار پارٹی میں اعلی قومی سلامتی کونسل اور مجلس شورائے اسلامی میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کا جائزہ لینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم کام کو انجام دینا رہبر انقلاب اسلامی کی مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
صدر مملکت نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی فضا سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے پہلے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب ذرائع ابلاغ عامہ، حکومت، پارلیمنٹ اور تمام ہمدرد اور درد دل رکھنے والے افراد کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ کس طرح مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد کی فضا سے قومی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بعض طاقتوں کی جانب سے ایٹمی بحث چھیڑے جانے کو ایرانو فوبیا کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ تعاون سب کے فائدے میں ہے۔ ایران ایک خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کہ جو ملت کی خواہش تھی، تسلیم کیے جا چکے ہیں، اور اب صورت حال یہ ہے کہ ہم افزودہ یورینیم اور بھاری پانی بیچ اور ییلو کیک خرید رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ درآمدات کے اخراجات بھی کم ہوئے ہیں اور بینکنگ رابطے بھی بحال ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری کا راستہ ہموار ہوا ہے اور ہمیں اس عظیم قومی کام کی قدردانی کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169