اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستانی سینیٹ کے رکن نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں سعودی عرب حج معاملے کو ایران کے خلاف ایک سیاسی ھتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑی غلطی کا مرتکب ہوا ہے.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ سياسي تنازعات كي آڑ ميں مسلمانوں كو مذہبي فرائض بالخصوص حج سے روكنے كے ہر اقدام ناقابل قبول ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ سعودي عرب كے دوسرے ممالك كے ساتھ روابط حج سے كوئي تعلق نہيں اور اس اسلامي فريضہ كو نبھانا ہر مسلمان كا حق ہے.
دنيائے اسلام ميں موجودہ بحران بالخصوص مذہبي اور فرقہ پرستي اور انتہا پسندي كا ذكر كرتے ہوئے طاہر مشہدي نے كہا كہ سعودي عرب ايسے مراكز اور مدارس كي پشت پناہي كرتا ہے جن ميں انتہا پسندي اور فرقہ واريت كو ہوا ديتے ہيں.
ايران، پاكستان كے برادرانہ تعلقات پر تبصرہ كرتے ہوئے پاكستاني سينيٹ كي دفاعي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے ركن نے كہا كہ صدر حسن روحاني كا حاليہ دورہ پاكستان انتہائي كامياب رہا اور دونوں ممالك اس دورے كے مثبت نتائج سے دوطرفہ تعلقات بڑھانے كيلئے استفادہ كريں.
انہوں نے اس بات زور ديا كہ خطے ميں موجود بدامني اور عدم استحكام كي بڑھتي ہوئي صورتحال كے باوجود اسلامي جمہوريہ ايران ميں پائيدار امن و سلامتي برقرار ہے اور يہ وہاں ميں گوڈ گورننس اور حكومت كي عوام دوست كاركردگي كي بدولت ہے.
ايران اور سعوديہ كے درميان موجودہ كشيدگي كے حوالے سے انہوں نے كہا كہ پاكستاني حكومت نے اس كشيدگي كو ختم كرنے كے مقصد سے مصالحتي عمل كا آغاز كيا جس سے پاكستاني سينيٹ كے ممبران خوش ہوئے تھے مگر ان كوششوں كا كوئي نتيجہ اب تك نہيں نكلا ہے تاہم حكومت پاكستان كو چاہئے كي اپني كوششوں كا سلسلہ جاري ركھے تا كہ ايران اور سعودي عرب كے درميان موجودہ تنازعہ سے عالم اسلام كو كوئي نقصان نہ ہو.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
پاکستانی سینیٹ کے رکن نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں سعودی عرب حج معاملے کو ایران کے خلاف ایک سیاسی ھتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑی غلطی کا مرتکب ہوا ہے.
ان خيالات كا اظہار سنئير پاكستاني سياستدان سينيٹر 'سيد طاہر حسين مشہدي' نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ سياسي تنازعات كي آڑ ميں مسلمانوں كو مذہبي فرائض بالخصوص حج سے روكنے كے ہر اقدام ناقابل قبول ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ سعودي عرب كے دوسرے ممالك كے ساتھ روابط حج سے كوئي تعلق نہيں اور اس اسلامي فريضہ كو نبھانا ہر مسلمان كا حق ہے.
دنيائے اسلام ميں موجودہ بحران بالخصوص مذہبي اور فرقہ پرستي اور انتہا پسندي كا ذكر كرتے ہوئے طاہر مشہدي نے كہا كہ سعودي عرب ايسے مراكز اور مدارس كي پشت پناہي كرتا ہے جن ميں انتہا پسندي اور فرقہ واريت كو ہوا ديتے ہيں.
ايران،پاكستان كے برادرانہ تعلقات پر تبصرہ كرتے ہوئے پاكستاني سينيٹ كي دفاعي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے ركن نے كہا كہ صدر حسن روحاني كا حاليہ دورہ پاكستان انتہائي كامياب رہا اور دونوں ممالك اس دورے كے مثبت نتائج سے دوطرفہ تعلقات بڑھانے كيلئے استفادہ كريں.
انہوں نے اس بات زور ديا كہ خطے ميں موجود بدامني اور عدم استحكام كي بڑھتي ہوئي صورتحال كے باوجود اسلامي جمہوريہ ايران ميں پائيدار امن و سلامتي برقرار ہے اور يہ وہاں ميں گوڈ گورننس اور حكومت كي عوام دوست كاركردگي كي بدولت ہے.
ايران اور سعوديہ كے درميان موجودہ كشيدگي كے حوالے سے انہوں نے كہا كہ پاكستاني حكومت نے اس كشيدگي كو ختم كرنے كے مقصد سے مصالحتي عمل كا آغاز كيا جس سے پاكستاني سينيٹ كے ممبران خوش ہوئے تھے مگر ان كوششوں كا كوئي نتيجہ اب تك نہيں نكلا ہے تاہم حكومت پاكستان كو چاہئے كي اپني كوششوں كا سلسلہ جاري ركھے تا كہ ايران اور سعودي عرب كے درميان موجودہ تنازعہ سے عالم اسلام كو كوئي نقصان نہ ہو.