اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں کشمیری حریت رہنما شہید افضل گورو کی برسی کے موقع پر تقریب کے حوالے سے پروفیسر ایس اے آر گیلانی اور طلباء کی گرفتاری اور اس کیخلاف احتجاج نے کٹر ہندو قوم پرستوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان کشیدگی کی نئی لہر پیدا کردی، افضل گورو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو بھارت خصوصاً کشمیر میں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے جس جارحانہ قوم پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وہ لوگوں کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ ہر اس شخص کی مذمت کریں جس کو حکمراں جماعت بی جے پی غدار قرار دے، نریندر مودی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد روایتی ایورویدک ادویہ، یوگا، سنسکرت کے فروغ کی مہم شروع کی اور جد و جہد آزادی کے رہنما سردار پٹیل کو خصوصی اہمیت دی، مودی حکومت کی طرف سے اس ہندو قوم پرست ایجنڈے کے فروغ کے خلاف گزشتہ سال کئی ممتاز بھارتی شخصیات جن میں ادیب بھی شامل تھے نے احتجاجاً قومی ایوارڈ واپس کیے حتیٰ کہ ایک مسلم اداکار کو یہاں تک کہنا پڑا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ بھارت چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169