اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تیل کی قیمت کے گرنے کا سلسلہ جاری رہتے ہوئے اور اس چیز کے پیش نظر کہ سعودی عرب کا اقتصاد بڑی حد تک تیل کی درآمدات پر منحصر ہے اور اسی طرح اس ملک کے ہتھیاروں کے اخراجات کو نظر میں رکھتے ہوئے اور یمن کے خلاف جنگ کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سعودی عرب کے اقتصاد کا جنازہ نکلنے والا ہے ؟
صخرہ کے تیل کا انقلاب
یہ ایسی حالت میں ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اب انقلاب صخرہ کو کنٹرول نہیں کر سکتی اس لیے کہ تیل کی قیمت میں اضافے کی صورت میں امریکہ کے صخرہ کے تیل کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا ۔
اس دوران اگر تیل کے بازار کے بارے میں پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو ایوانر بریچرڈ کی تحلیل کی بنیاد پر کہ جو سعودی عرب کا برطانوی قلمکار اور ماہر ہے موجودہ دہائی کے آخر میں اس کو اپنی موجودگی کے بحران کا سامنا ہوگا ۔
تیل کی پیداوار میں اضافے کی صورت میں سعودی عرب کا خطر ناک رسک
اس کے عقیدے کے مطابق گذشتہ سال نومبر میں جب اس نے طے کیا کہ تیل کی پیداوار کو روزانہ ایک کروڑ چھ لاکھ بیرل تک پہنچائے گا اور بازار کو تیل سے بھر دے گا تو اسی وقت اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا ۔
ایوانر نے یاد دلایا کہ ملک سلمان بن عبد العزیز سعودی عرب کے بادشاہ نے ۳۲ ارب ڈالر حکومتی کارکنوں اور ریٹائرڈ ہوجانے والوں کو دیے اور اس کے علاوہ وہ یمن کی پر خرچ جنگ میں کود پڑا اور اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ ملک کی ہتھیاروں کی طاقت کو بڑھانے کے لیے اس نے ہتھیاروں کی خریداری کے کئی سمجھوتے بھی کر ڈالے ۔
اس کے بقول یہ سب ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عر ب مشرق وسطی پر مسلط ہونے کے لیے ایران کے ساتھ کھینچاتانی کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔
ایوانر نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک میں عوامی تحریک کے بعد اور یہاں تک کہ تیل کی قیمتیں گرنے سے پہلے سعودی عرب کو نقدینہ میں کمی کا سامنا تھا اور اس طرح اس نے حیرت انگیز تیزی کے ساتھ خارجی بینکوں سے اپنا نقد پیسہ نکالنا شروع کر دیا ۔
اس نے آگے کہا ، مالی ذخائر سے خرچ کرنے کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے سال ۲۰۱۸ کے آخر میں یہ ذخائر گھٹ کر ۲۰۰ ارب ڈالر رہ جائیں گے اور سرمائے بھی اس ملک سے بھاگ جائیں گے ۔
دوسری جانب بینک آف امریکہ نے پیشین گوئی کی ہے کہ اوپیک ویانا میں اپنے دفاتر بند کر دے گا ۔
سعودی عرب کے اقتصاد کی کوئی بیک اور اس کا کوئی متبادل نہیں
ان ذرائع کے اعلان کی بنا پر تیل کی قیمت امریکہ کے صخرہ کے تیل کی پیداوار میں بڑھاوے سے جڑ گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کا اقتصاد کہ جس کا نوے فیصد تیل کی درآمدات پر منحصر ہے کسی اقتصادی یا صنعتی متبادل کے نہ ہونے کی وجہ سے یقینا دیوالیہ پن کی طرف جا رہا ہے ۔
اسی طرح عالمی بینک نے بھی پیشین گوئی کی تھی کہ سعودی عرب سال ۲۰۱۵ میں بھاری مقدار میں خام تیل کی قیمت گر جانے کی وجہ سے بجٹ میں بھاری کمی کا سامنا کرے گا ۔
مالی ذخائر سے اٹھا کر خرچ کرنے کے نقصانات
سعودیہ کے سابقہ سینٹرل بینک کے مسئول خالد السویلم نے کہا ، کہ اگر ریاض مالی ذخائر سے اٹھانے کے بجائے مالی گردش کا اقدام کرتا تو اس کے مالی ذخائر موجودہ مقدار سے اربوں ڈالر زیادہ ہوتے ۔
السویلم نے یاد دلایا کہ سعودی عرب کی قسمت اچھی تھی اس لیے کہ تیل کی قیمت میں وقت رہتے بہتری آ گئی لیکن ایک بارمزید اس قسمت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲