16 فروری 2016 - 16:32
سعودی عرب اگر شام میں فوج بھیج سکتا تو یمن میں جنگ جیت چکا ہوتا

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین کے مطابق شام میں زمینی فوجی دستوں کو بھیجنے کی آل سعود کی دھمکیاں محض کھوکھلے نعروں کےسواکچھ بھی نہیں ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقتور رضاکار فوج پاسداران انقلاب اسلامی میں ولی فقیہ کے نمائندے ’’علی سعیدی ‘‘ نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کےدوران کہاکہ شام میں زمینی فوجی دستوں کو بھیجنے کی آل سعود کی دھمکیاں محض کھوکھلے نعروں کےسوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

انہوں نےکہا کہ شام کےخلاف دھمکیوں سے ترکی و سعودی عرب کی مایوسی و ناکامی صاف ظاہر ہوتی ہے اوردونوں حکومتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ شامی فوج بہت جلد شہر حلب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ شام کی صورتحال اس ملک کے صدر بشارالاسد کے حق میں تبدیل ہورہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ شام میں فوج بھیجنے کا آل سعود کی دھمکی محض ایک پروپیگنڈا ہے اوراگر وہ ایسا کرسکتے تو وہ یمن کی جنگ جیت چکے ہوتے ۔

انہوں نے کہاکہ اگر سعودی عرب اپنی فوج کو شام روانہ کرتی ہے تو آل سعود کو اپنےاس فیصلے پر افسوس ہوگا ۔

یاد رہےکہ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے بدھ کو کہا تھا کہ اگر امریکی اتحادشام میں داعش کے خلاف زمینی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو سعودی عرب اس کارروائی میں شرکت کے لئے تیار ہے۔

واضح رہےکہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وزیر دفاع کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں زمینی کارروائی میں شرکت کے لئے آمادہ ہےجسکے  بعد متحدہ عرب امارات نے بھی اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ شام میں داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف اتحاد میں اپنی زمینی فوج بھیجنے کو تیار ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما کہ جنہیں افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بھاری اخراجات اٹھانے کے بعد مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ میں شامل ہونے پر گہری تشویش ہے کسی بھی وجہ سے شام میں امریکی فوج بھیجنے کا رجحان نہیں رکھتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲