اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت 'حسن روحانی' نے ایران مخالف پابندیوں کو غیرقانونی اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کی مزاحمت، ملکی ترقی اور مختلف شعبوں میں خودکفیل ہونے کی وجہ سے دوسرے فریق کو ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کردیا.
ان خيالات كا اظہار حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے بدھ كے روز انڈونيشيا كے دارالحكومت 'جكارتہ' ميں منعقد ہونے والي 'ايشيا-افريقي' سربراہي كانفرنس ميں عالمي رہنماؤں سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
انہوں نے كہا كہ گروپ 1+5 كو اس بات کا ادارك ہوچكا تھا كہ دھمكيوں، ذلت اور پابنديوں سے ايراني قوم كو شكست نہيں دے سكتے اس لئے عالمي طاقتيں آخري مرحلے ميں ايران كے ساتھ مذاكرات كرنے پر مجبور ہوگئيں.
صدر مملكت نے مزيد كہا كہ جوہري مذاكرات بہت پيچيدہ اور طويل ہيں مگر يہ بات كرتے ہوئے مجھے خوشي ہے كہ اس وقت مذاكراتي عمل يك تعميري فضا ميں جاري ہے اور جلد يك حتمي معاہدہ بھي متوقع ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ حتمي جوہري معاہدے كے تحت ايران كے خلاف تمام پابنديوں كا خاتمہ اور پرامن جوہري پروگرام استعمال كرنے كا حق كو مكمل طور پر تحفظ ملنا چاہئے.
دہشتگردي اور انتہا پسندي كے باعث بننے والي صورتحال كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے كہا كہ تشدد اور انتہا پسندي كے خلاف لڑنے كے ساتھ اس كي وجوہات بھي جاننا ضروري ہے.
صدر حسن روحاني نے مطالبہ كيا كہ دہشتگردوں كي مالي اور سياسي فيڈ چينلز كا سراغ لگاكر ان سب كو مٹانا چاہئے.
انہوں نے مزيد كہا كہ جب تك بعض ممالك دہشتگردي اور تشدد كے حوالے سے اپنا رويہ تبديل نہيں كريں گے تب تك اس ناسور سے عالمي برادري كو نجات نہيں مل سكتي.
انڈونيشيا كي ايشيا-افريقي كانفرنس ميں 100 سے زائد ممالك كے نمائندے شركت كر رہے ہيں. ايشيائي افريقي ممالك كا پہلا اجلاس ۱۸ اپريل 1955ء كو انڈونيشيا كے شہر بانڈونگ ميں منعقد ہوا تھا، جس كے نتيجے ميں غير وابستہ تحريك (NAM) كي تنظيم معرض وجود ميں آئي تھي، جس ميں شركت كرنے والے تمام ممالك اس زمانے كي دو بڑي طاقتوں يعني امريكا اور روس كے زير سايہ نہيں تھے، بلكہ وہ آزاد اور خود مختار تھے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲