اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے کیمپ میں موجود اٹھارہ ہزار پناہ گزینوں کے حالات کو ابتر قرار دیا ہے- رپورٹ کے مطابق پہلی اپریل کو اس پناہ گزیں کیمپ پر داعش دہشتگردوں کے حملے کے بعد سے، پناہ گزینوں کی صورت حال بہت خراب ہوگئی ہے- کیمپ میں خوراک اور دوا کوئی وجود ہی نہیں رہا ہے، عوام اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور سڑکوں پر جنگ ہو رہی ہے اور بمباری کی آوازیں آرہی ہیں- یہ صورت حال بند ہونی چاہئے تاکہ عام شہری، وہاں سے نکل سکیں- مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ گروہ، جو شام میں آپس میں برسرپیکار ہیں، یرموک میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں- فلسطینی تنظیم پی ایل او کے ایک عہدیدار احمد مجدلانی نے کہا ہے کہ ایک وفد، دمشق پہنچا ہے تاکہ ایک انسانی راہداری قائم کرنے کےلئے شامی حکومت اور فلسطینی گروہوں کے ساتھ گفتگو کرے- یرموک کیمپ، انیس سو اڑتالیس کی عرب اسرائیل جنگ سے بھاگنے والے فلسطینیوں کے لئے قائم کیا گیا تھا اس کیمپ میں دولاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کی گنجائش ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲