4 اپریل 2015 - 11:26
ایٹمی مذاکرات میں کامیابی رہبر انقلاب کی فرمائشات پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے

انہوں نے حاليہ کاميابي کو رہبر انقلاب اسلامي کے فرمائشات پر عمل درآمد اور مذاکراتي ٹيم پر ايراني قوم کے اعتماد کا نتيجہ قرار ديا اور کہا کہ ايراني قوم کے ايٹمي حقوق کا تحفظ، دنيا کے تعميري تعاون استوار رکھنا، ايٹمي مذاکرات کا محور تھا اور محور رہے گا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت 'حسن روحانی' نے اس بات پر زور دیا ہے ایرانی قوم کا جوہری حق کا استعمال کا تحفظ اور عالمی برادری کے ساتھ تعمیری تعلقات کا رکھنا جوہری مذاکرات کا محور تھا اور محور رہے گا.

صدارتي ويب سائٹ کے مطابق؛ ان خيالات کا اظہار حجت الاسلام و المسلمين 'حسن روحاني' نے گزشتہ رات قومي ٹيلي ويژن کے براہ راست پروگرام ميں ايراني عوام سے خطاب کرتے ہوئے کيا.
انہوں نے کہا کہ ايک بار پھر يہ بات ثابت ہوئي کہ ايراني قوم کو دہمکيوں اور پابنديوں سے ہرگز زبردستي اپنے مطالبات منوانے پر مجبور نہيں کيا جا سکتا.
صدر روحاني نے جوہري مذاکرات کے فريم ورک پر ايران اور گروپ 1+5 کے درميان مفاہمت کو تاريخي کاميابي قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کا جوہري پروگرام کسي بھي ملک کے خلاف نہيں بلکہ ہماري جوہري سرگرميوں کا مقصد ملک کو ترقي اور پيش رفت کي جانب گامزن کرنا ہے.
انہوں نے جوہري سمجھوتے کو دنيا کے ساتھ تعميري تعلقات استوار رکھنے کے سلسلے ميں پہلا قدم قرار ديا اور کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کسي کو دھوکہ اور فريب نہيں دينا چاہتا.
انہوں نے کہا کہ لوزان ميں ہونے والے ايٹمي مذاکرات ميں ہم نے جو وعدے کئے ہيں اس پر ضرور کاربند رہيں گے، تاہم ايران کا اپنے وعدوں پر کاربند اور قائم رہنا مقابل فريق کے اپنے وعدوں پر کاربند سے مشروط ہے.
انہوں نے واضح کيا کہ فريقين کے درميان ايٹمي سمجھوتے پر عمل درآمد متوازن اور قدم بہ قدم ہو گا.
انہوں نے حاليہ کاميابي کو رہبر انقلاب اسلامي کے فرمائشات پر عمل درآمد اور مذاکراتي ٹيم پر ايراني قوم کے اعتماد کا نتيجہ قرار ديا اور کہا کہ ايراني قوم کے ايٹمي حقوق کا تحفظ، دنيا کے تعميري تعاون استوار رکھنا، ايٹمي مذاکرات کا محور تھا اور محور رہے گا.
صدر حسن روحاني نے کہا کہ ايٹمي معاہدے پر اتفاق سے اس مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ ايراني قوم کو دھمکيوں اور پابنديوں سے ہرگز زبردستي اپنے مطالبات منوانے پر مجبور نہيں کيا جا سکتا.
انہوں نے کہا کہ حاليہ ايٹمي سمجھوتہ متوازن اور مدمقابل فريق کے عمل پيرا ہونے سے مشروط ہے.
صدر مملکت نے کہا ايراني قوم نے استقامت و پائيداري کے ساتھ اپنے اہداف اور قومي مفادات کے حصول کے ليے ايک اہم قدم اٹھايا ہے.
صدر روحاني نے مزيد کہا کہ گروپ پانچ جمع ايک نے ايٹمي ٹيکنالوجي اور يورينيم کي افزودگي کے ايران کے حق کو تسليم کيا ہے اور يہ بات قبول کي ہے کہ ايران کا ايٹمي پروگرام پرامن ہے جو ايران قوم کي اہم تاريخي کاميابي ہے.
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحاني نے اپنے خطاب ميں ايٹمي مذاکراتي ٹيم کي کارکردگي کو سراہتے ہوئے کہا کہ پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ ايران کے مذاکرات کو دنيا کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ليے پہلا قدم ہے.
انہوں نے واضح کيا کہ يہ تعاون صرف ايٹمي مسئلے تک محدود نہيں رہے گا بلکہ آج اس سمجھوتے کے انعقاد سے دنيا کے ساتھ تمام شعبوں ميں تعاون کے لئے زمينہ ہموار ہو جائے گا.
قومي چينل پر براہ راست قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحاني نے مزيد کہا کہ ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے مشترکہ بيان کے مطابق حتمي سمجھوتے پر عمل درآمد کے پہلے ہي دن مالي، اقتصادي اور بينکاري کے شعبوں ميں ايران پر عائد پابندياں اور قرارداديں کالعدم ہو جائيں گي اور ايٹمي امور اور ديگر شعبوں ميں دنيا کے ساتھ ايران کے ساتھ تعاون ميں ايک نيا باب کھلے گا.
صدر مملکت نے اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آج کي دنيا ميں ملکوں کو ڈرانے دھمکانے کي پاليساں اپني افاديت کھو چکي ہيں، کہا کہ سب کو دونوں فريقوں کي جيت پر مبني سمجھوتے اور تعاون کے ليے کوشش کرني چاہيے.
انہوں نے اپنے خطاب ميں ان بيانات کي ترديد کرتے ہوئے کہ پابنديوں نے ايران کو مذاکرات کي ميز پر آنے پر مجبور کيا ہے مزيد کہا کہ دباؤ اور پابنديوں کے سامنے ملت ايران کے نہ جھکنے کي وجہ سے مقابل فريق ايران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہوا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲