اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المنار آن لائن کے مطابق حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ یہ تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ القلمون پر داعش اور القصیر پر جبہۃالنصرہ دہشتگرد گروہ کا قبضہ ہو اور لبنان کے قریب واقع علاقے اور عرسال کی گذرگاہ میں بیس ہزار جنگجو موجود ہوں تو ان حالات کس طرح کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے؟ ایسی صورت میں لبنان میں بھی، بم دھماکوں اور کار بموں نیز خودکش حملوں کا مشاہدہ کیا جاتا- شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ القلمون کے علاقے میں جب دہشتگردوں کا زیادہ وجود نہیں تھا اس وقت انھوں نے دہماکہ خیز مواد سے بھری پندرہ کاروں کو لبنان بھیجا اور کار بم دھماکوں کا سلسلہ بھی اس وقت بند ہوا جب حزب اللہ کے جوان، یبرود،رنکوس، الجبہ اور فلیطہ پہنچے اور انہوں نے کار بموں کے اڈے کو ختم کردیا جس کے بعد لبنان میں کسی حد تک امن قائم ہوا- انھوں نے کہا کہ ہمیں شام میں القاعدہ کے خطرے کا مقابلے میں ملی اور لبنانی فوج بھی بقاع اور عرسال کے قریب تمام علاقوں میں تکفیریوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے- شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ سب کو چاہیئے کہ تکفیریوں کے مقابلے میں اس اتحاد کر برقرار رکھیں اور اس کی اہمیت کو درک کریں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲