اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ہافینگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے ماضی کے دعووں کی تکرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا دارو مدار ایران کی آمادگی پر ہے کہ وہ عالمی برادری پر یہ ثابت کرے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا ہے ۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب آئی اے ای اے کی رپورٹوں میں بارہا اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی طرح کا انحراف نہیں پایا جاتا ۔
خود امریکی صدر نے بھی اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ایران نے جنیوا عبوری ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے ۔ امریکی صدر نے اپنے اس تازہ انٹرویو میں کہا کہ لوزان مذاکرات نوروز کی تعطیلات کی وجہ سے رک گئے اور یہ وقفہ اس بات کا اطمینان حاصل کرنے کے لئے مناسب موقع ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ممالک ایٹمی مذاکرات میں اپنائے گئے موقف پر متفق ہیں۔
دوسری جانب اسی سلسلے میں امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے لندن میں ایک بیان میں، ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں پیشرفت کی بات کی ہے - واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ جوادظریف لوزان مذاکرات کے اختتام پر کہا تھا کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ممالک کو آپس میں ہم آہنگی کے لئے مزید وقت درکار تھا اس لئے مذاکرات کو آئندہ پچیس مارچ تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔
.......
/169