15 مارچ 2015 - 12:18
لیبیا کے مشرقی علاقوں میں شدید جھڑپیں

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لیبیا میں گذشتہ مہینوں کے دوران فجر ملیشیا، داعش، فوج اور اسی طرح خلیفتہ حفتر کے فوجیوں کے درمیان جو اس وقت لیبیا کی فوج کے سربراہ بھی بن گئے ہیں، متعدد خونریز جنگیں ہوئی ہیں، لیکن اس بار ملک کے مشرق میں فجر ملیشیا اور داعش ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ مغرب کے خبری ذرائع کے مطابق لییبا کے مشرقی شہر سرت کے اطراف کا علاقہ ایک بار پھر فجر ملیشیا اور داعش سے وابستہ عناصر کےدرمیان میدان جنگ بن گیا ہے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان فروری کے مہینے سے اب تک ہونے والی یہ پہلی لڑائی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ داعش نے سرت شہر کی بعض سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ داعش اور فجر ملیشیا کے درمیان لڑائی ایسی حالت میں ہورہی ہے کہ اس سے قبل دونوں گروہ آپس میں متحد تھے یہاں تک کہ داعش گروہ دارالحکومت طرابلس میں فجر ملیشیا کے عناصر کی موجودگی کے ہی سبب، پیشقدمی کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ تاہم اب ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ دونوں گروہوں میں اختلاف بہت گہرا ہوگیا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ مشرقی لیبیا کے علاقے دونوں گروہوں کے درمیان جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ فجر ملیشیا سے وابستہ ذرائع نے اعلان کیا ہےکہ اس گروہ نے ساحلی شہر سرت میں داعش کامقابلہ کرنے کے لئے دارالحکومت طرابلس سے مزید افراد روانہ کردیئے ہیں۔ اس وقت سرت شہر سے ایک سو بیس کیلو میٹر دور واقع مشرقی علاقہ، النوقلیہ، داعش گروہ کے کنٹرول میں ہے اور در حقیقت یہ علاقہ مشرقی لیبیا میں داعش کا اصلی گڑھ شمار ہوتاہے۔ فجرملیشیا سے وابستہ ویب سائٹ المختصر نے لکھا ہے کہ سبھا شہر میں معدوم ڈکٹیٹر قذافی کے حامی عناصر داعش میں شامل ہوگئے ہیں اور خود کو اس دہشت گرد گروہ کا رکن قرار دے رہے ہیں۔ معدوم قذافی کے حامیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ داعش کی حمایت سے سبھا شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب داعش گروہ، لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر قذافی کے افراد کو اپنی صفوں میں شامل کرکے لیبیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہپے اور ساتھ ہی جارحانہ کاروائیوں میں مصروف ہے۔ یادرہےکہ مصر کے اکیس عیسائیوں کے سر قلم کرنے کے بعد داعش نے حال ہی میں فجر ملیشیا کے بھی چار افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ داعش سے علیحدہ ہونے سے قبل تک ان دونوں گروہوں نے مل کر بہت سی جارحانہ اور خونریز کاروائیاں انجام دی تھی- اس درمیان لیبیا کے عبوری قانونی وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے کہا ہے کہ بعض ممالک، لیبیا میں حریف اور مسلح گروہوں کی حمایت کرکے لیبیا کے عوام کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور قطر لیبیا میں سرگرم دہشت گرد گروہوں اور اسی طرح حکومت مخالف مسلح گروہوں کی حمایت کررہے ہیں۔ لیبیا کے عبوری قانونی وزیراعظم نےکہا ہے کہ ترکی اور قطر نے لیبیا کی قومی وحدت کو نشانہ بنارکھا ہے۔ عبداللہ الثنی نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے حریف گروہ فجر ملیشیا اور اسی طرح داعش گروہ کی ترکی جانب سے حمایت کے سبب، وہ ترکی کی کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲