اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کا ساحلی شہر سرت کا عظیم الشان کانفرنس سینٹر جہاں کبھی سابق ڈکٹیٹر کرنل قذافی نے اپنے پڑوسی ملکوں کو ریاست ہائے متحدہ افریقہ کا تصور پیش کیا تھا اب وہاں داعش کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مغربی ملکوں کی منافقت اور بعض عرب ملکوں کی حمایت سے وجود میں آنے والا یہ عفریت عراق و شام سے نکل کر لیبیا پہنچ چکا ہے۔ داعش سے وابستہ دہشت گردوں نے گزشتہ بدھ کو سرت کی مرکزی یونیورسٹی کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ دہشت گردوں نے60 ٹرکوں پر شہر میں گشت کیا، ٹرکوں پر اینٹی ایئر کرافٹ ہتھیار نصب تھے۔ وحشت و بربریت کے علمبرداروں نے خوب دہشت پیدا کی۔ ٹائمز کے مطابق شہر میں موجود ایک صحافی نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ہر قسم کا اسلحہ ہے۔ جس کی وہ خوب نمائش کرتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی شہر کے80فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا ہے، لوگ ہراساں ہیں کہ شہر میں رہیں یا کوچ کرجائیں۔ اٹلی کے ساحل سے صرف چند سو میل دور لیبیا تک داعش کی رسائی نے عالمی رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ درنا، شام کا شہر رقہ بنتا جارہا ہے، جہاں داعش کا قبضہ ہے۔ درنا پر داعش کے بھیجے گئے یمنی نژاد خلیفہ کی عمل داری قائم ہوگئی ہے جو تاریخی صحابہ مسجد میں خطاب بھی کرتا ہے۔ داعش نے اپنی نام نہاد شرعی عدالت قائم کرلی ہے اور ہر جمعہ کو لوگوں کو سرعام کوڑے مارے جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ داعش کا ایک قیدی تشدد کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکا ہے۔ تکفیری نظریات کی حامل دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستہ نے بے پردہ عورتوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے، جبکہ نوعمر لڑکیوں کی نام نہاد جہادیوں سے کسی شرعی اور قانونی ضابطے کے بغیر جبری شادیوں اور ان کے حاملہ ہونے کے معاملات بھی سامنے آرہے ہیں۔
.......
/169