اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے حکم جاری کئے جانے کے بعد جمعرات کو خصوصی فوجی دستہ صوبہ الانبار کے شہر البغدادی کے لئے روانہ کردیا گیا ہے تاکہ اس شہر سے دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کیا جاسکے ۔ در ايں اثنا عراقی فوج شمالی عراق کے مختلف شہروں منجملہ سنجار اور مخمور کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے بعد شہر موصل کو آزاد کرانے کی سمت پیشقدمی کررہی ہے عراقی فوج نے اس کاروائي میں بڑی تعداد میں داعش کے عناصر کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔دوسری جانب کرد پیشمرگہ ملیشیا کے ایک کمانڈر نجات علی نے بھی مشرقی موصل کے بعض علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کمزور ہوچکا ہے اوروہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکارہے۔ عراق کے نائب صدرنوری مالکی نے بھی جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ان دہشت گردوں کی جو شہریوں اور فوجیوں کو نشانہ بنا رہے ہيں،شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے جانے کا مطالبہ کیا ۔ نوری مالکی نے اسی طرح عوام کے مصائب و مشکلات سے سیاسی فائدہ اٹھائے جانے کی بابت خبردار کیا اور کہا کہ عراق بدستور فرقہ وارانہ سازش کا نشانہ بنا ہوا ہے اور دشمن عراق کے اتحاد و وفاق، اقتدار اعلی اور خودمختاری کو نشانہ بنائے ہوئے ہيں ۔ عراق سے ہی ایک اور خبر یہ بھی ہے کہ صوبہ الانبارسے ممبر پارلیمنٹ فارس طہ الفارس نے بتایا ہے کہ عوامی رضاکار فورس کے تقریبا پانچ ہزار افراد صوبہ الانبار ميں ٹریننگ کی مدت پوری کرچکے ہيں- انہوں نے کہا کہ البتہ ابھی تک انہيں وزارت دفاع اور داخلہ کے ذریعے مسلح نہیں کیا گیا ہے ۔ ادھر صوبہ نینوا میں موصل کے اعلی حکام کی کونسل کے رکن عبداللہ الجبوری نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے ایک گودام کا پتہ لگایا گيا ہے- ان کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار سعودی عرب کے ہيں- موصل کے اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ کو بنانے اور اس کو مسلح کرنے میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے اور ریاض اس وقت صرف اس لئے داعش کے خلاف کاروائي کی بات کررہا ہے کہ اب یہ گروہ خود سعودی عرب کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲