اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بعثت آبدوز ایک ہزار تین سو ٹن وزنی ہوگي۔ اس کا وزن ایران کی فاتح آبدوز سے زیادہ جبکہ دو ہزار تین سو ٹن وزنی ایران کی طارق آبدوز سےکم ہوگا۔ آبدوزوں کی تیاری کے اصول اور ٹیکٹکس ایک جیسی ہونے کے پیش نظر اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ زیادہ وزنی آبدوزیں بنا کر سمندری حدود کی حفاظت پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیاجائے۔ اس سلسلے میں بعثت آبدوز کی ڈیزائننگ اور تیاری کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ اس آبدوز کی تیاری سے ایران کے لۓ بھاری آبدوزوں کی ڈیزائننگ اور ان کی تیاری کا دروازہ کھل جائے گا۔ اس آبدوز کی رفتار سطح آب پر تقریبا بارہ ناٹ (Knot) جبکہ زیر آب بیس ناٹ ہوگی اور مستقبل میں اس سے ایران کی سمندری حدود اور بین الاقوامی سمندری حدود میں آبدوزوں سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیتوں کی کڑیاں مکمل ہوجائیں گي۔
.......
/169