اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے اس لیے سخت ناراض ہیں، کیونکہ انہوں نے وائٹ ہاؤس سے مشاورت کے بغیر کانگریس کی جانب سے دیے گئے امریکی دورے کے دعوتنامہ کو قبول کر لیا ہے۔
بدھ کو اوبامہ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے واشنگٹن میں امریکی سفیر پر نیتن یاہو کے دورۂ امریکہ کی منصوبہ بندی کے لیے سخت نکتہ چینی کی۔
امریکی صدر نے دورۂ امریکہ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم سے ملنے سے اس لیے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا رواں سال مارچ میں ہونے والا مجوزہ دورۂ امریکہ 'وہائٹ ہاؤس' اور کانگریس کے ری پبلکن ارکان کے درمیان گزشتہ کئی روز سے وجۂ نزاع بنا ہوا ہے۔
کانگریس کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر نے اوباما انتظامیہ کو اعتماد میں لیے بغیر نیتن یاہو کو 3 مارچ کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دی ہے جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا ہے۔
وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روایات کے برخلاف وہائٹ ہاؤس اور کانگریس کے ڈیمو کریٹ ارکان کو اعتماد میں لیے بغیر ہی اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دیدی گئی۔
براک اوباما کا کہنا ہے کہ مارچ میں اسرائیل میں عام انتخابات منعقد ہونا ہیں اور نیتن یاہو اپنے امریکی دورے سے سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی وہ امریکہ کے کئی قریبی اتحادیوں کے سربراہان کے ساتھ انہی وجوہات کے باعث ملاقاتوں سے انکار کرچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169