اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صفانیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے جن کا گھر بار غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں تباہ ہوگیا تھا بدھ کو غزہ شہرمیں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور آنروا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد روک دیئےجانے پر احتجاج کیا- خبروں کے مطابق مشتعل مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب پتھراؤ کیا اور سڑکوں پرٹائرجلاکر دفتر کی عمارت پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی تاہم سیکورٹی اہلکاروں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشرکردیا۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے اور غزہ کی تعمیر نو کے لئے تحریک چلانےوالی فلسطین کی قومی تحریک کے ترجمان ابوسلیمہ نے غزہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کےسامنے اپنی تقریرمیں غزہ کا محاصرہ ختم اور اس کی تعمیرنو کا مطالبہ کیا- مذکورہ فلسطینی رہنما نے پناہ گزینوں کے لئے آنروا کی مالی امداد روکے جانے کو غیراخلاقی اقدام قرار دیا۔ ابوسلیمہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ غزہ میں فلسطینی پناہ گزينوں کی امداد روکنے کا مطلب فلسطینیوں کواجتماعی سزا دینا ہے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص عرب ممالک اپنے وعدوں پر عمل نہ کر کے اس علاقے کی بحرانی صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ واضح رہے کہ آنروا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں بے گھر ہوجانے والے انہتر ہزار سے زیادہ سے فلسطینیوں کی مدد کے لئے سات سوبیس ملین ڈالر کی مدد کی ضرورت ہے لیکن عطیات دینے والےممالک اور متعلقہ اداروں نے صرف ایک سوپینتیس ملین ڈالرہی دیئے ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲