25 جنوری 2015 - 06:15
دہشت گرد وحشی اور سفاک افراد ہیں / دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سوئیزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ القاعدہ، طالبان، داعش، بوکوحرام اور الشباب جیسی سلفی وہابی دہشت گرد تنظیمیں وحشی اور سفاک تنظیمیں ہیں اور ان میں سرگرم افراد وحشی دہشت گرد ہیں جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ القاعدہ، طالبان، داعش، بوکوحرام اور الشباب جیسی سلفی وہابی دہشت گرد تنظیمیں وحشی اور سفاک تنظیمیں ہیں اور ان میں سرگرم افراد وحشی دہشت گرد ہیں جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جان کیری نے کہا کہ وحشی دہشت گرد بےگناہ بچوں ، عورتوں اور عام شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں ۔ جان کیری نے کہا دہشت گردی وہاں جنم لیتی ہے جہاں حکومتی ادارے کمزور ہوں۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ عالمی اتحاد نے داعش کوکمزورکردیا ہے۔ داعش اور دیگر تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ داعش سے کسی ایک ملک نہیں بلکہ دنیا کوخطرات کو لاحق ہیں۔ عرب اور یورپی ممالک مل کر داعش کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیاکہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور یہ بات صریحاً غلط ہوگی کہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے لیے کسی طوراسلام کو قصوروار ٹھہرایا جائے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کوامن وسلامتی کا درس دیتا ہے جبکہ دہشت گردی یا پرتشدد انتہاپسندی چند افراد کا قبیح ذاتی فعل ہے۔ یہ ذاتی عناصر ہی ہیں جو مذہب کا نام لے کر دنیا میں تباہی، قتل عام اور بربادی پھیلا رہے ہیں، جس کی مذہب ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جان کیری نے اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان میں طالبان اور شدت پسند کارروائیوں کا خصوصی طور پر ذکرکیا۔انھوں نے کہا کہ داعش خلافت کی دعویدار ہے اور ہلاکتوں کے عمل میں پیش پیش ہے۔ اسی طرح بوکوحرام دہشت گردی اور قتل عام کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔اسلامی ذرائع‏ کے مطابق دہشت گردی میں ملوث تمام تنظیمیں سلفی وہابی گمراہ فرقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں ہیں۔ سلفی وہابیوں کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب، ترکی، اور اسرائیل شام میں آشکارا داعش دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں در حقیقت امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ پالیسی کے نتیجے میں وجود میں آئي ہیں اور آج بھی امریکہ اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی ان تنظیموں کی مدد کررہی ہیں۔

.......

/169