اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اوباما نے افغان جنگ میں بھاری اخراجات کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں فوجی مشن ختم ہو گیا ہے اور اس کے بعد افغان فوج کی تربیت کے مشن میں امریکی فوجیوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو گا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد افغانستان میں امریکی فوجی مشن ختم ہو گیا ہے اور واشنگٹن نے گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران بھاری اخراجات کر کے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی سے بہت زیادہ تجربات اور سبق حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ سال تک افغانستان اور عراق میں تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار امریکی فوجی موجود تھے لیکن آج ان ملکوں میں صرف پندرہ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ باراک اوباما نے کہا کہ اس وقت ہم اپنے فوجی بھیجنے کے بجائے افغانستان کی فوج کی تربیت اور اس کی تقویت کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی فوجیوں کا جانی نقصان نہ ہو۔ امریکی صدر باراک اوباما نے ایک ایسے وقت افغانستان میں پینٹاگون کے فوجی مشن کے خاتمے کی بات کی ہے کہ جب امریکہ کے کئی اعلی رتبہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی اور غیرملکی فوجیوں کو اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ماہرین کے خیال میں افغانستان میں بدامنی اور پوست کی کاشت میں اضافہ اس ملک میں امریکی فوجیوں کی تیرہ سالہ موجودگی کا نتیجہ ہے۔
.......
/169