اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات پر ایرانی وزارت خارجہ کی گہری نظر ہے اور اگر ہمیں یہ لگا کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے تو اسلامی جمہوریہ اپنی راہ کا تعین خود کرے گا.يہ بات 'مرضيہ افخم' نے گزشتہ روز تہران ميں اپني ہفتہ وار بريفنگ ميں صحافيوں سے گفتگو كرتے ہوئے بتائي.
انہوں نے كہا كہ جامع اور منصفانہ حتمي جوہري معاہدہ ايران كا مطالبہ ہے ليكن اگر جوہري مذاكرات كا رخ غلط سمت ميں موڑا گيا تو ايران نيا فيصلہ كرنے پر مجبور ہوگا.
2015 ميں ايران اور گروپ 1+5 كے درميان شروع ہونے والے جوہري مذاكرات كے نئے دور كا حوالہ ديتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے مزيد كہا كہ امريكي كانگريس كي طرف سے پابنديوں كا غيرموثر آپشن استعمال كرنا ايك غلط حكمت عملي ہے.
انہوں نے كہا عالمي برادري كو ايران كے خلاف پابنديوں كے غيرموثر ہونے كا اچھي طرح علم ہے اور ايراني قوم اپنے مفادات كو سامنے ركھتے ہوئے اپنے فيصلے كرے گي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲