23 دسمبر 2014 - 12:06
بشّاراسد کی حکومت، شام میں دہشتگردوں کی نابودی کے لئے مصمم

گذشتہ ایک سال کے دوران شام کی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں، دہشتگردوں کو ہونے والی پے در پے شکست اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر شامی حکام کے صلاح مشوروں اور ایران کی پارلیمینٹ کے اسپیکر کے دورۂ دمشق کے تناظر میں عرائض پیش رہے ہیں اور آج کے پروگرام میں ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہوں گے، عالمی امور کے معروف پاکستانی تجزیہ نگار پروفیسر قندیل عباس.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں انجام پانے والی فوجی کاروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔ شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں شامی فوجیوں اور داعش دہشتگردوں کے درمیان ہونے جھڑپوں میں درجنوں دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں اور دارالحکومت دمشق کے مضافات میں عیسائیوں کی آبادی کے علاقے جوبر کی آزادی کا کبھی بھی اعلان ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور دہشتگردوں کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔کئی علاقوں میں دہشتگردوں کے حملوں کو ناکام بنادیا گیا جبکہ شامی فوجیوں کی پیش قدمی بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں دہشتگرد گروہ داعش کے پندرہ سو عناصر ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔شامی ذرائع نے بھی جوبر کے علاقے میں فریقین کے درمیان شدید جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئےاعلان کیا ہے کہ اس علاقے پر گذشتہ دو برسوں سے دہشتگردون کا قبضہ جاری تھا جس کو اب کبھی بھی آزاد کرالئے جانے کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔شام کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ زہریلی گیس کے استعمال کے بارے میں تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ داعش دہشتگردوں نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے زہریلی گیس کا استعمال کیا ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران شامی فوج کو مسلسل کامیابیاں مل رہی ہیں اور دہشتگرد پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
میں عالمی امور کے معروف پاکستانی تجزیہ نگار پروفیسر ڈاکٹر قندیل عباس سے رابطہ قائم کر کے پہلے یہ سوال کیا کہ آپ شامی فوج کی گذشتہ ایک سال کی کامیابیوں اور دہشتگردوں کی مسلسل پسپائي اور شام میں بشّار اسد کی حکومت کی تقویت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا۔ مصاحبہ سننے کے لئے میڈیا پلیئر پر کلک کریں۔
صہیونی حکومت اپنے نئے اقدامات کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے تاکہ علاقے کی استقامت و مزاحمت کے مقابلے میں اور خاص طور پر غزہ کی حالیہ جنگ میں اسے فلسطینی مزاحمت کے سامنے جو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے اس کی تلافی کے لئے سازشیں اور منصوبے بنائے۔ لیکن شام کا نظام تبدیل کرنے کے لئے صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں کے تمام منصوبے اور سازشیں ناکام رہی ہیں اور بشار اسد کی حکومت نے ان سازشوں کے خلاف استقامت کرتے ہوئے ان کے حربوں کو ناکام بنادیا ہے۔ اور شام کی عوامی فورس اور فوج نے ان کے شام میں بھیجے ہوئے دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کردیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا باعث بنی ہے کہ صہیونی حکام یہ گمان کررہے ہں کہ وہ شام میں اپنے بعض جارحانہ اقدامات کے ذریعے، دہشت گردوں اور اپنے ایجنٹوں کو مکمل شکست سے بچالیں گے۔ لیکن علاقائی اوربین الاقوامی تبدیلیاں اس امر کی غماز ہیں کہ صہیونی حکومت کے یہ جسورانہ اقدامات ، اس غاصب حکومت کی بحرانی صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہيں کرسکیں گے۔ دہشت گردوں اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں شام کی فوج اور عوام کے عزم و استقامت سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ شام سے مقابلے میں بھی غاصب صہیونی حکومت کو ایک اور شکست کا مزہ چکھنا پڑے گا اور یہ مسئلہ ، شکست خوردہ صہیونی حکومت کی موجودہ صورتحال کو مزید متزلزل کردے گا۔
دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی عوام اور فوج کی مزاحمت نے ظاہر کر دیا کہ فوجی و اقتصادی امداد سے مزاحمت کو نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایک جائز حکومت کو گرایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران شام کے عوام اور فوج نے یہ واضح کر دیا کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی مکمل توانائی رکھتی ہے۔یہ بھی یہ حقیقت ہے کہ شام کے بحران کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے اکثر ملکوں کی یہ خواہش ہے کہ جلد از جلد شام میں امن و سلامتی بحال ہو اور شامی پناہ گزیں اپنے گھروں کو واپس لوٹیں ۔ادھر شامی حکام نے بھی ایران کے ساتھ حالیہ صلاح مشوروں میں تاکید کی ہے کہ داعش کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ایران اور شام کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ شامی حکام نے،اقتصادی شعبوں سمیت تمام شعبوں میں تہران اور دمشق کے تعلقات میں توسیع پر زور دیا۔

.......

/169