13 دسمبر 2014 - 19:47
داعش کے نطریات و افکار، اسلام کے خلاف ہیں

مصر کے جامعۃ الازہر نے دہشت گرد گروہ داعش کے نظریات اور افکار کو اسلام کے خلاف قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ الازہر نے کہا ہے کہ داعش ایک خونخوار اور انسانیت کا دشمن گروہ ہے، اس کے جرائم کا اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے حالیہ دنوں میں جامعۃ الازہر کی جانب سے دنیا بھر کے علماء و دانشمندوں کی شرکت سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا جس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

العربيہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعۃ الازہر کی جانب سے جاری حالیہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائیں اسے کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔

بیان میں نائجیریا کے مفتی شیخ ابراہیم صالح حسین کی اس تقریر کا بھی ذکر کیا گیا جو انہوں نے جامعۃ الازہر میں منعقد کانفرنس کے دوران کی تھی اور جس میں انہوں نے بھی دہشت گردی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ داعش کے جنگی جرائم کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ جس طرح کے ہتھکنڈے داعش کے افراد استعمال کر رہے ہیں وہ کسی مسلمان کے نہیں ہو سکتے۔

نائجیریا کے مفتی نے اپنی تقریر میں داعش کو واضح الفاظ میں کافر نہیں کہا لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ دہشت گرد گروہ خاص طور پر اسلامی خلافت کے دعویدار داعش نے خود کو اسلام کا دشمن ثابت کیا ہے جو صرف لوٹ مار، قتل وغارت اور انسانوں کی جان لینے میں یقین رکھتے ہیں، تكفیری افکار کو رائج کرتے اور معصوم انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔ اسلام میں کسی بھی حالت میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف تلوار اٹھانے یا معصوم کا خون بہانے کی اجازت نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اہل سنت والجمات کا یہ اجماع توحید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ پر ایمان وعقیدہ رکھنے والا ہر شخص مسلمان ہے۔ اس کے برے اعمال اور گناہ چاہے جتنے ہوں اس کی سزا کے طور پر کوئی بھی اسے کافر قرار نہیں دے سکتا۔
.......

/169