اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے وزیر اعظم اور افغانستان کے صدر کے درمیآن ملاقات ہوئی ہے اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دونوں سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک سےغربت اور پسماندگی کے خاتمہ پراتفاق اور سیکیورٹی سے متعلق جامع مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا ۔مشترکہ پریس کانفرنس سےخطاب میں نوازشریف نےکہاکہ پاکستان پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے ، پاکستان،افغانستان کی سالمیت،قومی یکجہتی،خودمختاری کا احترام کرتا ہے،دونوں ممالک کوسیکیورٹی اور اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔اس موقع پر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلاکر آگے بڑھنا ہوگا ،پاکستان،افغانستان میں جمہوری عمل کا تسلسل چاہتے ہیں،افغانستان خطےکی ترقی اوراستحکام میں بھرپورکرداراداکرسکتاہے،ہم نے ملک کو وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا سے ملانےکیلیے اہم اقدامات کیے ہیں۔اس موقع پر افغان صدر نے کہا کہ ہم نے 13 سال کی تجارتی رکاوٹوں کو 3 دن میں حل کرلیا، افغانستان کی معیشت پر پاکستانی توجہ کا خیرمقدم کرتاہوں۔نوازشریف نے کہا کہ ٹاپی اور کاسا پروجیکٹس سے دونوں ممالک میں معاشی ترقی اور خوشحالی آئیگی، پاکستان افغانستان میں مذاکرات کا حامی ہے،افغانستان کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،دونوں ممالک کا حال اور مستقبل آپس میں جڑا ہوا ہے۔قبل ازیں دونوں سربراہان کے درمیان ون ٹو ون ملاقات کے ساتھ مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب ہوئی۔
۔ اس سے پہلے افغان صدر اشرف غنی نے صدر پاکستان، مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ افغان صدر اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، پاک افغان بارڈر کی صورتحال ، امریکی افواج کے انخلاء ، کالعدم تحریک طالبان اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی سے متعلق بات چیت کی گئی۔ صدر اشرف غنی نے پاکستان سے افغان فورسز کی عسکری اور بارڈر مینجمنٹ کی تربیت کے حوالے سے تعاون کی درخواست کی ۔ ملاقات میں افغان حدود سے پاکستانی پوسٹوں پر حملے، بھارتی قونصل خانوں اور افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان قیادت کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاکستان کی عسکری قیادت نے افغانستان میں مولوی فضل اللہ گروپ کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ترجمان پاک فوج نے افغان صدر کے دورہ پاکستان کو خطے میں امن استحکام کیلئے نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا ہے دونوں ممالک کی سیکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲