اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے سنیچر کی رات عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچنے پراپنے عمانی ہم منصب یوسف بن علوی سے مختصر گفتگو میں کہا کہ عمان، ایٹمی مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مغرب کے لئے بہترین راہ یہ ہے کہ وہ پابندیوں کی ناکامی کی حقیقت پر توجہ دے۔ انہوں نے ایک بار پھر تاکید کی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقصد کبھی بھی عسکری نہيں تھا اور نہ رہےگا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مغرب کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت پر توجہ دے کہ اس نے اب تک ایران پر دباؤ ڈالنے اور تہران پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں، ان کے کیا نتیجے برآمد ہوئے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر ایک راہ حل تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ اگر مغرب اس طرح کے راہ حل میں دلچسپی اور پر امید رکھتا ہے تو چوبیس نومبر تک راہ حل تک پہنچا جاسکتا ہے اور سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزيرخارجہ جواد ظریف، امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن ایشٹن کے ساتھ گفتگو کےلئے سنیچر کی رات عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے۔
.......
/169