اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بغداد آپریشن کے کمانڈر عبد امیر الشمري نے بتایا ہے کہ داعش کے دہشت گرد، "الثرثار" جھیل کے قریب کے علاقوں کو بند کر کے فلوجہ ڈیم کے بند کو کھول کر بغداد کو غرق کرنا چاہتے تھے۔ بغداد فوجی مہم کے کمانڈر نے بتایا کہ فوجیوں نے بغداد سے الانبار صوبے میں 50 کلومیٹر کے اندر پہنچ کر "الثرثار" جھیل کے قریب کے علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے بغداد کو غرق ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں فوجی اور رضاکار فورسز نے الانبار صوبے کو گھیر لیا ہے اور انہوں نے فلوجہ کو آزاد کرانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت دہشت گردوں کو دارالحکومت بغداد سے دور کرنا اور داعش کے کنٹرول والے علاقوں کو آزاد کرانا ہے۔
صوبہ الانبار میں فوجی مہم ایسی حالت میں شروع ہوئی ہے کہ جب اس صوبے کے لوگوں نے فوج اور رضاکاروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جمعہ کی صبح "ہيت" اور "حديثہ" شہروں کو آزاد کرانے کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ عراق کے "ہيت" اور "حديثہ " شہر گزشتہ چند دنوں کے دوران مقامی قبائل اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ داعس کے دہشت گردوں نے جمعرات کو ہيت کے ایک علاقے میں سنی قبیلے "البونمر" کے45 لوگوں کو قتل کر دیا تھا۔ ہيت کا یہ سنی قبیلہ، اس علاقے میں داعش کی موجودگی کی مخالفت کر رہا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق داعش کے دہشت گردوں نے اس قبیلے کے 238 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جبکہ وہاں پر ایک اجتماعی قبر ملی ہے جس میں 250 لوگوں کی لاشیں ملی ہیں۔
.......
/169