اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہانس بلکس نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں بی بی سی کو انٹرویو میں ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جس قدر ایٹمی ایندھن کی ضرورت ہے اس حدتک ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ یوکرین کے لئے روسی گيس کے معاہدے کے تعلق سے روس کے کاربند رہنے کی بات کرتے ہیں انہیں یہ کہنے کا کوئي حق نہیں ہےکہ ایران اپنے ایٹمی بجلی گھر کے لئے ایندھن بنانے کی غرض سے یورینیم کی افزودگي نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوے بھی غیر معقول ہیں کہ ایران نئی سنٹری فیوج مشینوں سے استفادہ نہ کرے اور یہ کہ ایران جو نئے ری ایکٹر بنائے گا ان میں پرانی ٹکنالوجی استعمال کرے۔ ہانس بلکس نے کہا کہ مشترکہ اقدام کا معاہدہ جو طولانی مذاکرات کے بعد طے کیا گيا ہے اس کے بعد جب تک ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان جامع معاہدہ طے نہیں ہوجاتا مغرب کو کوئي ایسا نیا مطالبہ پیش نہیں کرنا چاہیے جو اس معاہدے سے ہٹ کر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان مطالبات میں ایران کی میزائل ٹکنالوجی اور سکوریٹی ضمانتوں کے بارے میں سوالات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ آئي اے ای اے کے سابق سربراہ نے کہا ہےکہ اگر حد سے زیادہ مطالبات کئےگئے تو اس سے مواقع کھونے کا امکان بڑھ جائے گا جس سے نئي رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ہانس بلکس نے ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مذاکرات بند کرواسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران میں عدم استحکام لانے کی کوششوں سے یہ تاثر ملے گا کہ مغرب ایٹمی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔البتہ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا ہےکہ ایران میں اگر کوئي خفیہ ایٹمی سائٹ سامنے آتی ہے یا بیرون ملک ایران کے دہشتگردی میں ملوث رہنے کے بارے میں کوئي ٹھوس ثبوت ملتا ہے تو کشیدگي کم کرنے اور ترک اسلحہ کے بار ے میں ایران کی کوششوں پر شک کیا جانا بے جا نہ ہوگا۔ہانس بلکس نے کہا کہ میں نے اپنے سفارتی کیرئیر میں یہ بات تجربے سے سیکھی ہے کہ کسی بھی ملک کی تحقیر نہ کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں ایران علاقائي اور عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے دیگر ملکوں کی تائيد حاصل کرنا چاہتا ہے لھذا ایران کے حق میں یہ بات ہوگي کہ وہ کشیدگي کم کرنے اور علاقے میں مصالحت کے عمل کو آگے بڑھائے۔ ہانس بلکس نے کہا کہ اب جبکہ سب لوگ مل بیٹھ کر مذاکرات کررہے ہیں تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہےکہ وہ مذاکرات کی ممکنہ ناکامی کی صورت میں کسی آپشن کی بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں دنیا میں اکثر قوموں کا خیال ہے کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی یا اس کے استعمال کو اب مکمل طور سے ترک کردیا جائے۔ عراق کے خلاف عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا گيا۔ اس کے علاوہ یہ کوئي نہیں جانتا کہ جنگ شروع ہونے کےبعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔
.......
/169