اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق يمن کے دارالحکومت صنعا ميں انقلابي رہنماؤں کي اپيل پر منگل کو بھي حکومت مخالف مظاہرے کئے مظاہرين کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ذريعے پرامن مظاہروں کو کچلنےکي کوششوں کے باوجود اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے -
اس سے پہلے يمني فوجيوں اور سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے صنعا ميں دھرنے پر بيٹھے لوگوں پر طاقت کا بے دريغ استعمال کرکے مظاہروں کو کچلنے کي کوشش کي تھي -
يمن ميں جاري انقلابي تحريک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہماري پرامن تحريک عوامي موجودہ حکومت کي برطرفي تک جاري رہے گي-
اطلاعات کے مطابق اس سلسلے ميں يمن کے انقلابي رہنما عبدالمالک الحوثي کا کہنا ہے ہم اپنے قانوني اور منصفانہ مطالبات پورے ہونے تک چين سے نہيں بيٹھيں گے -
عبدالمالک حوثي نے کہا کہ دھرنے پھر بيٹھے لوگ اپنے انقلابي راستے کو ترک نہيں کريں گے اور ہمارے انقلاب کو اس کے راستے سے منحرف کرنے کي کوئي بھي سازش کامياب نہيں ہوگي-
درايں اثنا آج ان کي دعوت پر ايک بار پھر دارالحکومت صنعا ميں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے- عبدالمالک حوثي نے مظاہرين اور دھرنے پر بيٹھے لوگوں سے اپيل کي کہ مطالبات پورے ہونے تک صبر تحمل کا مظاہرہ کريں- انہوں نے کہا کہ اگر کسي کو ہماري نيت پر شک ہے تو وہ عوامي مطالبات کو پورا کرديں اور ديکھيں کہ ہم اس کے علاوہ اور کچھ نہيں چاہتے-
عبدالمالک حوثي نے کہا کہ حکومت کي برطرفي، ايندھن اور پيٹروکيمکل مصنوعات کي قيمتوں ميں کمي اور قومي مذاکراتي عمل کي تکميل کے علاوہ ہمارا کوئي دوسرا مقصد نہيں ہے-
انہوں پر زور لفظوں ميں کہا کہ سياسي يا مادي مفادات نہيں رکھتے صرف عوامي مطالبات کي تمکميل کے لئے سڑکوں نکلے ہيں اور ان مطالبات کي تکميل تک اپني تحريک سے دستبردار نہيں ہوں گے-
يمن کے عوام نے تين ہفتے قبل اپني انقلابي تحريک کا دوسرا مرحلہ شروع کيا ہے - يمن کے سياسي تنظيموں اور پارٹيوں نے حکومت يمن کي تشدد آميز پاليسيوں کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے اور حکومتي پاليسيوں کے خلاف پرامن عوامي تحريک کا ساتھ دينے کا اعلان کيا ہے-
اس سلسلے ميں محافظان المجد سے موسوم اتحاد کے اور انجمن اسلامي نے اپنے ايک بيان ميں صنعا ائر پورٹ ہائي وے پر سيکورٹي فورسز کي جانب سے مظاہرين کے خلاف طاقت کے استعمال کي مذمت کي ہے- اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ يہ الميہ جو امريکي صدر مشير کے صنعا کے دورے فورا بعد رونما ہوا ، اس بات کي علامت ہے کہ منصور ہادي کي حکومت اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے بيروني مدد و حمايت کي محتاج ہے -
ادھر ايک اطلاع کے مطابق سعودي عرب کے وزير خارجہ سعود الفيصل نے ٹلي فون کے ذريعے صدر منصور ہادي کو اپني عرب ليگ کي جانب سے بھرپور حمايت کا يقين دلايا-
آل سعود کي جانب سے منصور ہادي حمايت اس وجہ سي کي جارہي کہ سعودي عرب حوثيوں کا سخت مخالف ہے اور اس حوالے سے رياض کو سخت تشويش لاحق ہے-
حوثيوں يے سياسي دفتر کے ايک رکن محمد البخيتي کا کہنا ہے کہ يمن کي موجودہ حکومت بيروني اشاروں پر چل رہي ہے اور اسے ملک کے قومي مفادات کي کوئي فکر نہيں ہے-
.......
/169