1 ستمبر 2014 - 02:19
بحرین میں سیاسی قیدیوں کی نویں دن بھی بھوک ہڑتال

بحرین میں انسانی حقوق مرکز نے، اس ملک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے سیکڑوں قیدیوں کی صورت حال کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں انسانی حقوق مرکز نے، اس ملک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے سیکڑوں قیدیوں کی صورت حال کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے اپنے بیان میں آل خلیفہ کے کارندوں کی جانب سے ناروا سکوک اپنائے جانے اور شکنجے دیئے جانے پر احتجاج کرنے والے بحرینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال کے نویں روز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی قیدیوں نے جیلوں میں سہولیات کی عدم فراہمی اور فورسز کی طرف سے شکنجے دیئے جانے پر اس سے قبل بھی بھوک ہڑتال کی  تھی، لیکن اس کے باوجود بحرین کی جیلوں میں یہ بدترین صورت حال اپنی جگہ باقی ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے قیدیوں کو زد و کوب کرنے اور غیر معیاری اور غیر صحت مندانہ بیرکوں میں رکھے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، قیدیوں کی صورت حال اور آل خلیفہ کی کال کوٹھریوں میں قیدیوں کو شکنجے دیئے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ بحرین کے الحوض الحاف جیل میں تقریبا چھ سو قیدی، بحرین کی جیلوں میں رائج غیر انسانی اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے، بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ ادھر ۔ آل خلیفہ حکومت کے کارندوں نے بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے خارجہ تعلقات کے دفتر کی سربراہ کو وطن پہنچتے ہی گرفتار کرلیا ہے۔ بحرین کی انقلابی تحریک 14 فروری نے سماجی ویب سائٹ کے پیج پر بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے خارجہ تعلقات کے دفتر کی سربراہ مریم الخواجہ کی بحرینی شہریت کی منسوخی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آل خلیفہ کے کارندوں نے ان کی وطن واپسی کے فورا بعد مریم الخواجہ کو گرفتار اور ان کسی سے حتی اپنے وکیل سے بھی رابطہ کرنے سے منع کردیا۔ واضح رہے کہ مریم الخواجہ کے والد عبدالھادی الخواجہ کو بھی آل خلیفہ حکومت نے بے بنیاد الزامات لگا کر 2011 سےگرفتار کررکھا ہے۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ بحرین کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کےلئے آل خلیفہ حکومت کی سازش پر مبنی پالیسیاں بدستور جاری ہیں اور اس شعبے میں بحرین کی انسانی حقوق کی انجمن کے سربراہ نے ایک لاکھ بیس ہزار غیر ملکیوں کو بحرین کی شہریت دیئے جانے کو اس ملک کے عوام کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بحرین کی انسانی حقوق کی انجمن کے سربراہ یوسف ربیع نے لبنان کے دارلحکومت بیروت میں آل خلیفہ حکومت کے جرائم کا جائزہ لیئے جانے کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کہا کہ بحرین میں غیر ملکیوں کو شہریت دیئے جانے کا موضوع مکمل طور پر سیاسی اہداف کا حامل ہے اور آل خلیفہ حکومت اپنے اس قدام سے بحرین کی آبادی کے تناسب کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ یوسف ربیع نے بحرین میں غیر ملکی باشندوں کو شہریت دیئے جانے کے قانون کی اصلاح کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر عمل درآمد، بحرین کے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ، ان کی سیاسی، تعلیمی، سماجی اور شہری حقوق سے محرومیت کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ آل خلیفہ حکومت کے جرائم کا جائزہ لیئے جانے کے حوالے سے سیمینار جمعہ کے دن لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منعقد ہوا، جس میں عوامی اداروں کے نمائندوں، قانونی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ بحرین کے شیعوں کے رہنما نے اس ملک میں غیرمنصفانہ انتخابات کے انعقاد کو بحرین میں بحران کے پیچیدہ ہونے کا باعث قرار دیا ہے۔ بحرین کے بزرگ شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز شہر مین نماز جمعہ کے خطبوں میں ملک کی موجودہ بحرانی صورت حال میں آئندہ ہونے والے انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت بحرین کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر منصفانہ انتخابات کا انعقاد، حکمرانوں کی کسی بھی خواہشات کو پورا نہیں کرے گا اور بحرین میں جاری بحران مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ بحرین میں حکومت مخالفین نے 2014 کے آواخر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی آمد کے موقع پر آل خلیفہ حکومت کی تشدد پسندانہ پالیسیوں میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، تاکید کی کہ یہ اقدامات، عوام کو سیاسی حقوق سے محروم رکھنے کے لئے بحرین کے حکمرانوں کے منظم جرائم کا حصہ ہیں۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲